امریکی صدرنے افغانستان کے قدرتی وسائل میں حصہ طلب کرلیا

جدت ویب ڈیسک :: عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس میں ایک خصوصی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار زور دیتے رہے کہ مسلسل امداد اور حمایت کے عوض امریکا کو افغانستان کے وسیع قدرتی وسائل میں اپنا حصہ طلب کرنا چاہیے ۔اجلاس میں شریک ایک امریکی اہلکار نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر ’’روئٹرز‘‘ کو بتایا کہ اس اجلاس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں چینی کمپنیاں کان کنی سے منافع کما رہی ہیں تو امریکا کیوں پیچھے رہے ۔اجلاس میں شریک سیکیورٹی حکام نے ٹرمپ کو جواب دیا کہ جب تک پورے افغانستان پر امریکی تسلط قائم نہیں ہوجاتا، تب تک وہاں کے قدرتی وسائل میں اپنا حصہ وصول کرنا امریکا کے لیے عملاً ممکن نہیں ہوگا۔ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے معاملے میں شش و پنج کا شکار ہیں کیونکہ ایک طرف تو وہ وہاں فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوج کو وہاں سے واپس بلانا واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں ’’لیتھیم‘‘ نامی قیمتی دھات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی مالیت کا تخمینہ 1 ٹریلین ڈالر 1000 ارب ڈالر سے بھی زیادہ لگایا گیا ہے ۔ سب سے ہلکی دھات لیتھیم کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2012 کے دوران عالمی منڈی میں اس کی فی ٹن قیمت 4559 ڈالر تھی جو 2017 میں 9100 ڈالر، یعنی دوگنی زیادہ ہوچکی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.