برطانیہ کی کل آبادی میںکس مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا تناسب بڑھ گیا

لندن جدت ویب ڈیسک برطانیہ کی کل آبادی میں کسی بھی مذہب سے تعلق نہ رکھنے والے افراد کا تناسب گذشتہ 17 سال کے دوران 31 فیصد سے بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا۔ نیشنل سینٹر فار سوشل ریسرچ کی طرف سے تین ہزار کے قریب لوگوں کا سروے کیا جس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ برس 53 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ سروے کے مطابق اس رجحان سے سب سے زیادہ عیسائیوں کا اینگلیکن فرقہ متاثر ہوا ہے اور 2000ئ کے مقابلے میں ان کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کی عمریں 18 اور 25 برس کے درمیان ہیں ان کی 71 فیصد تعداد کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی جس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ میں مذہبی رجحان میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ 1983ئ میں کیے جانے والے ایسے ہی ایک سروے میں 31 فیصد برطانوی شہریوں نے کہا تھا کہ ان کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ حالیہ سروے سے معلوم ہوا کہ نوجوانوں اور جوانوں کی تقریباً دو تہائی تعداد مذہب پر یقین نہیں رکھتی، البتہ وہ لوگ جن کی عمریں 75 برس سے اوپر تھیں، ان میں سے 75 فیصد نے کہا کہ وہ مذہب پر ایمان رکھتے ہیں۔ 26 سالہ صحافی خاتون تمسین ہر دوسرے اتوار کو لندن میں ایک سیکولر اجتماع میں شرکت کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بالکل مذہبی نہیں ہیں اور انہیں یہ معاشرتی رجحان پسند ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر جب مذہب روایتی طور پر اہمیت اختیار کر لیتا ہے، مثلاً موت یا شادی کے موقع پروہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتی ہیں یا مل کر غم بانٹتی ہیں۔ اس اجتماع کے ایک اور رکن مٹسکی کی پرورش بطور جین مت کے ماننے والے کے ہوئی تھی، لیکن اب ان کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے تھے، ان میں سے 40 فیصد کے قریب اب مذہب پر یقین کھو بیٹھے ہیں۔ نیشنل سینٹر فار سوشل ریسرچ کے روجر ہارڈنگ کہتے ہیں کہ ہر مذہبی رہنما کو ان اعداد و شمار پر غور کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.