سپریم کور ٹ پاناما کیس کی سماعت مکمل ، فیصلہ محفوظ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سپریم کورٹ نے پاناما عمل در آمد کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائیگا جبکہ ججز نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم پہلے ہی نااہلی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں ¾ گارنٹی دیتے ہیں نااہلی کا معاملہ زیرغورلائیں گے ¾فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ¾ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ¾ آئین اور قانون سے باہر نہیں جائیں گے ¾آئین کے آرٹیکلز ہماری نظروں کے سامنے ہیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جس سے کسی کے بنیادی آئینی حقوق کی تلفی ہو۔جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاناما عملدرآمد کیس کی جمعہ کو مسلسل پانچویں سماعت کی۔ وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث ¾ وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین، حسن اور صاحبزادی مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طار ق حسن نے اپنے دلائل مکمل کئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری ، جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے جواب الجواب پیش کیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار اور نیب کی طرف سے اکبر تارڑ نے بھی اپنا اپنا مؤقف پیش کیاتمام فریقین کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کرتے ہوئے پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران شریف خاندان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ گزشتہ روز کی سماعت میں نیلسن اور نیسکول کے ٹرسٹ ڈیڈ پربات ہوئی تھی، عدالت کے ریمارکس تھے کہ بادی النظرمیں یہ جعلسازی کا کیس ہے اور اسی حوالے سے میں نے کہا تھا اس کی وضاحت ہوگی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دستخط کیسے مختلف ہیں؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اکرم شیخ نے کہا ہے کہ غلطی سے یہ صفحات لگ گئے تھے، یہ صرف ایک کلریکل غلطی تھی اکرم شیخ کے چیمبر سے ہوئی، کسی بھی صورت میں جعلی دستاویز دینے کی نیت نہیں تھی ¾ ماہرین نے غلطی والی دستاویزات کا جائزہ لیا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہے ¾جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دوسرا معاملہ چھٹی کے روز نوٹری تصدیق کا ہے، لندن میں بہت سے سولیسٹر ہفتہ بلکہ اتوار کو بھی کھلتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز سے پوچھا گیا کہ چھٹی کے روز ملاقات ہوسکتی ہے، حسین نواز نے کہا تھا کہ چھٹی کے روز اپائنٹمنٹ نہیں ہوسکتی جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عام سوال کیا جائے تو جواب مختلف ہوگا مخصوص سوال نہیں کیا گیا۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کاوالیم 10 بھی منگوا لیا جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ دسویں جلد میں جے آئی ٹی کے خطوط کی تفصیل ہوگی اور دسویں جلد سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی جس کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ کاسربمہر والیم 10 عدالت میں پیش کردیا گیا، والیم 10 کی سیل عدالت میں کھول دی گئی اورعدالت نے والیم 10 کا جائزہ بھی لیا جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ خواجہ صاحب یہ والیم آپکی درخواست پر کھولا جارہا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے والیم 10کھولنے کی استدعا کی تھی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا دستاویزات میں متعلقہ نوٹری پبلک کی تفصیل ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حسین نواز کا اکثر سولیسٹر سے رابطہ رہتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز نے نہیں کیا کہ انکا رابطہ سولیسٹر سے رہتا ہے، ان دستاویزات پر کسی کے دستخط بھی نہیں، کل عدالت کو بی وی آئی کا 16 جون کا خط موصول ہوا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ آج سلمان اکرم راجہ نے اچھی تیاری کی، عدالت نے خواجہ حارث کو والیم 10 کی مخصوص دستاویز پڑھنے کو دےدی تاہم عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ ابھی والیم 10 کسی کو نہیں دکھائیں گے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ 23 جون کو جے آئی ٹی نے خط لکھا ¾جواب میں اٹارنی جنرل بی وی آئی نے خط لکھا۔ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیئے کہ کیا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریفرنس نیب کو بھجوا دیا جائے جس پرسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا جواب ہے کہ کیس مزید تحقیقات کا ہے، خطوط کو بطور شواہد پیش کیا جا سکتا ہے لیکن تسلیم نہیں کیا جا سکتا جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ شواہد کو تسلیم کرنا نہ کرنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ پوچھا تھا کیا قطری شواہد دینے کےلئے تیارہے جس پرسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قطری کی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ قطری نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکارکیا ¾میں نے تمام قطری خطوط کا جائزہ لیا جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ روز جسٹس عظمت سعید شیخ نے پوچھا تھا کہ کیا آج قطری پیش ہونے کوتیارہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قطری کوویڈیو لنک کی پیشکش نہیں کی گئی ¾ انہوں نے اپنے دلائل میں بتایا کہ سال 2004 تک حسین اور حسن کو سرمایہ ان کے دادا دیتے رہے ¾اگر بیٹا اثاثے ثابت نہ کر سکے تو ذمہ داری والدین پر نہیں آ سکتی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ عوامی عہدہ رکھنے والوں کی آمدن اثاثوں کے مطابق نہ ہو تو کیا ہوگا ¾پبلک آفس ہولڈر نے اسمبلی میں کہا یہ ہیں وہ ذرائع جن سے فلیٹس خریدے، جس کے بعد وزیراعظم نے کچھ مشکوک دستاویزات سپیکر کو دیں ¾ہم ایک سال سے ان دستاویزات کا انتظار کر رہے ہیں ¾یہاں معاملہ عوامی عہدہ رکھنے والے کا ہے ¾وہ اپنے عہدے کے باعث جواب دہ ہیں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے نے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب کیا تھا ¾ خطاب میں کہا تھا بچوں کے کاروبار کے تمام ثبوت موجود ہیں اور ہم ایک سال سے ان ثبوتوں کا انتظار کررہے ہیں ۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کی کمپنیوں کا بینیفیشل مالک ہونا کیپٹن صفدر کے گوشواروں میں ظاہر نہیں ہوتا، اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ گوشواروں میں ملکیت کاذکر نہیں تو عوامی نمائندگی ایکٹ لاگو ہو گا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ لاگو کرنے کےلئے باقاعدہ قانونی عمل درکارہو گا، جے آئی ٹی کو ایرول جارج نے اپنے جواب میں 2012جون کی صورتحال کی تصدیق کی اور ایرول جارج کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں اس کے ساتھ ہی ¾ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جواب میں عدالتی تحفظات دور کرنے کی کوشش کی ہے ¾ عدالت میں دو جواب داخل کرائے ہیں جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے دائرے میں رہ کر لہروں کے خلاف بھی تیرنا ہو تو تیر لیں گے۔ سماعت کے دوران طارق حسن کی جانب سے اسحاق ڈار کا 34 سالہ ریکارڈ سر بمہر پیش کیا گیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ ڈبہ اب سارا دن ٹی وی کی زینت بنے گا جس پر طارق حسن نے کہا کہ سنا ہے جے آئی ٹی نے بھی ایسے ہی ڈبے پیش کیے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ بھی شواہد کے ڈبے دے کر جے آئی ٹی کی پیروی کر رہے ہیں جس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے۔جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے اثاثوں میں اضافے کا کہا ¾اسحاق ڈاراس کا جواب نہ دے سکے، اس سے ہو سکتا ہے اسحاق ڈار کے خلاف کارروائی شروع ہو جائے، حدیبیہ پیپر ملزکیس میں آپ شامل تھے، حدیبیہ پیپر ملز کیس کے خارج ہونے کو تسلیم کر لیں توبھی اسحاق ڈار کے خلاف کافی موادہے، جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے ریمارکس دیئے کہ آج اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ موجود ہیں جس پراسحاق ڈارکے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنے طورپرمکمل بد نیتی ظاہر کی، تین ذرائع سے یہ ریکارڈ جمع کیا جس پر جسٹس اعجاز احسن نے ریمارکس دیئے کہ اثاثے پانچ سال میں 9 ملین سے بڑھ کر835 ملین ہوگئے، بتائیں کہ شیخ النیہان نے کن شرائط پر اسحاق ڈار سے معاہدہ کیا جس پرطارق حسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسحاق ڈارصرف سیاستدان نہیں پروفیشنل اکاؤنٹنٹ بھی ہیں، اگر پاکستان میں دو لاکھ کمائیں اورباہرجا کرکمائی دس گنا بڑھ جائے تو کیا یہ غلط ہے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ صرف دو لاکھ سالانہ کماتے ہیں تو پھر پیشہ چھوڑ دیں جس پرطارق حسن نے کہا کہ سیاست میں آنے کے بعد کئی بار اسحاق ڈار کے اکاؤنٹس کی پڑتال کی گئی، آج تک اسحاق دار کے خلاف کچھ نہیں نکلا۔ طارق حسن نے اسحاق ڈار کے ٹیکس جمع کرانے پر طویل دلائل شروع کیے تو جسٹس اعجاز افضل نے روکتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ سماعت ہمیشہ ہی چلتی رہے جس پر عدالت میں ایک بار پھر قہقہہ گونج اٹھا۔طارق حسن نے کہا کہ ریکارڈ کے بغیر جے آئی ٹی کیسے اسحاق ڈار کے خلاف کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے ¾ بلاوجہ کے احتساب میں گھسیٹنا قبول نہیں جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ ڈرامائی کہانی ہے تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ کہانی ڈرامے کی طرح ختم ہو، جو تحریری جواب آپ نے دیا ہے یقین رکھیں اس کا جائزہ لیا جائے گا، تحریری جواب سے ہٹ کر دلائل ہیں تودیں ہم سنیں گے۔طارق حسن ایڈوکیٹ نے کہا کہ جے آئی ٹی میں بطور گواہ گیا تھا لیکن یہاں لگتا ہے ملزم ہوں جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے جو کیا وہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کے باعث کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے نیب اور ایف آئی اے سے ملنے والی دستاویزات کا جائزہ لینا تھا، جے آئی ٹی میں آپ نے اپنی کمائی اور براک ہولڈنگ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، سمجھ نہیں آتا کہ اسحاق ڈار نے کس بات کا استحقاق مانگا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا تحریری جواب دیا، تسلی رکھیں ہر وکیل کے ہر جواب کی ہر سطر پڑھیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار کا بیٹا بیرون ملک کمپنی سے باپ کو پیسے بھیجتا رہا، اسحاق ڈار کا اپنے بیٹے سے پیسے لینا ٹیکس بچانے کےلئے تھا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ ماضی کی طرح شریف خاندان کے خلاف دوبارہ گواہ بننا چاہتے ہیں؟جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 800 ملین کا اضافہ ہوا، اسحاق ڈار نے بیٹے کو کمپنی ہل میٹل کے فنڈز دئیے، بیٹے نے وہی رقم باپ کو تحفے میں بھیج دی، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ مسٹر طارق حسن کم از کم آپ تو اپنے موکل سے انصاف کر لیں، آپ انصاف کرلیں اورہمیں بھی اسحاق ڈارسے انصاف کرنے دیں۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم یہ کہہ دیں کہ آپ کے دلائل سن کر اطمینان ہوا، دونوں فریقین سن لیں اس کیس میں ہم قانون سے باہر نہیں جائیں گے، سب کے بنیادی حقوق کا احساس ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ فریقین ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں، ہمیں کچھ نہ کہیں، کیس ختم ہو جائے گا، آپ چلے جائیں گے مگر ہمارا کام جاری رہے گا، بہت زیادہ تفصیل دینا بھی کیس کو برباد کر دیتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت تک کیس سنیں گے جب تک کہ آپ تھک نہ جائیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جس چیز کی آئین اور قانون نے اجازت نہیں دی وہ نہیں کریں گے، انصاف کے تقاضے پورے کرنا تھے اسی لیے کیس کو روزانہ سنا۔ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے بھی دلائل مکمل کرلیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہنا کہ وفاق کا موقف ہے کہ عدالت نے 5 ماہ کیس سنا،ہر فریق کو مناسب موقع دیا گیا، تحقیقات میں نیا ریکارڈ بھی سامنے آیا، مجھے یقین ہے کہ عدالت فریقین کے حقوق کا خیال رکھے گی، جے آئی ٹی کی فائنڈنگز عدالت پر لازم نہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو آج ہی اپنا تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالت شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے۔سماعت کے دوران نیب کے وکیل چوہدری اکبر تارڑ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب نے حدیبیہ کیس کھولنے کا فیصلہ کر لیا ¾ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے سوچ لیا تو یہ سوچ تحریری شکل میں کب آئےگی جس پر چوہدری اکبر تارڑ نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب میں کہا کہ ثابت ہوگیا وزیراعظم صادق اورامین نہیں ¾ایف زیڈ ای کمپنی کو وزیراعظم نے ظاہر نہیں کیا ¾ ایف زیڈای کمپنی کا چیئرمین ہونا اور تنخواہ وصولی ظاہر نہیں کی گئی جس پرجسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ان کا کہناہے کہ وزیر اعظم نے تنخواہ نہیں لی جس پر جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس دیئے کہ تنخواہ لینے اور نہ لینے کے اثرات علیحدہ علیحدہ ہوں گے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ یہ حقیقت ہے کہ اگر اثاثے ظاہر نہ کیے گئے تو بددیانتی کہلائےگی ¾ سوال یہ ہے کہ یہ ہمارا دائرہ اختیارہو گا یا الیکشن کمیشن کا ہوگا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ تقریر میں وزیر اعظم نے گلف سٹیل مل 33 ملین درہم کی فروخت کرنے کا کہا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ بی سی سی آئی رقم شامل کرنے پر 33 ملین کی ہی بنتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ بقایا جات ادائیگی کے بعد سرمایہ کاری کےلئے کچھ نہیں بچا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ شہباز شریف نے 1980 کے سیل معاہدے کو تسلیم نہیں کیا، سعودی عزیزیہ مل 63 ملین میں فروخت کرنے کا کہا گیا، اس حوالے سے بھی 20 ملین کم ہیں، وزیراعظم نے سعودیہ مل کی فروخت سے لندن فلیٹس خریداری کا کہا، حسن نے 2001 میں کاروبار شروع کیا جبکہ عزیزیہ 2005 میں فروخت ہوئی، وزیراعظم کو ہل میٹل اور حسین نواز سے تحائف آ رہے ہیں، 1980 میں شہبازشریف نے خود کو کاروبار سے الگ کیا، طارق شفیع شہباز شریف کے نمائندے بنے رہے، جدہ مل کی 20 ملین رقم واجب الادا تھی، گلف سٹیل مل کی فروخت بارے بھی غلط بیانی کی گئی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا کسی پبلک آفس ہولڈر کے ملازمت کرنے پر پابندی ہے جس پر نعیم بخاری نے کہا جی بالکل ہے، پبلک آفس ہولڈر کی ملازمت مفادات کا ٹکرائہ ہے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ امریکا سے بھی وزیر اعظم کو شیخ سعید نامی شخص سے 10 ملین ملے ¾جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں پابندی ججز کی دوسری ملازمت کےلئے ہے ¾کسی دوسرے آفس ہولڈر کے لیے نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کی کسی دوسری ملازمت پر پابندی ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں وزیر اعظم کی کسی دوسری ملازمت بارے کچھ نہیں ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے جو چیزیں درخواست میں نہیں کیا ہمیں ان پر جانا چاہیے ¾جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو تمام معاملات کی جانچ کا کہا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ نئی چیزیں کیس میں شامل کر کے فریقین کو سرپرائز دیا جا سکتاہے ¾یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ بار ثبوت شریف خاندان پرہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ فیملی سیٹلمنٹ کے وقت93ئ سے زیر استعمال فلیٹس زیر بحث نہیں آئے، قطری خطوط نکال دیں تو 1993-96 سے لندن فلیٹس نواز شریف کی ملکیت بنتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قطری سپریڈ شیٹ تو نہ ادھر کی ہے نہ ادھر کی جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ بہترین وضاحت یہ ہوتی کہ فلیٹ میاں شریف نے خریدے۔ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ اگر ہم مان لیں کہ فلیٹس کی مالک مریم ہیں اور وہ نواز شریف کی زیر کفالت ہیں تو، اثاثے ظاہر کرنے پر ہی وزیر اعظم کی نااہلی بارے فیصلہ دیا جا سکتا ہے، اگر زیر کفالت ثابت نہ ہو توصرف مریم کا فلیٹ کا مالک ہونا کافی نہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی بنی تو سب نے کہا کہ جے آئی ٹی کا کام آزادانہ ہو گا ¾جے آئی ٹی نے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا، اگرہم نے ٹرائل سے متعلق فیصلہ دیا تو یہ فیئر ٹرائل ہو گا جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے جن حالات میں کام کیا قابل تحسین ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کو بینیفشل مالک تسلیم کر بھی لیں تو زیر کفالت کا معاملہ آئے گا، درخواست میں آپ نے مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کا کہا تھا ¾ مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کے واضع شواہد نہیں ملے جس پر نعیم بخاری نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں وزیر اعظم عہدے پر رہنے کے قابل نہیں رہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے جوابی دلائل میں کہا کہ عظیم ججز کے سامنے پیش ہواہوں ¾جے آئی ٹی کے سپر سکس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان رہنے کے قابل ملک ہے ¾ قوموں کی تقدیربدلنے کےلئے ایسے ہی افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے، عدالت نے قطری کی سرمایہ کاری کا پوچھا،جواب نہ آیا، شریف خاندان نے 13 سوالوں کے جواب بھی نہ دیئے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مٹھائیاں بانٹیں گئیں، لگتا ہے میری طرح ان کی انگریزی بھی کمزور ہے ¾جے آئی ٹی والوں کو وزیر اعظم نے کل اپنی تقریر میں دھمکایاہے، وزیراعظم نے کل جے آئی ٹی بارے الفاظ استعمال کر کے عدالت کی توہین کی۔ شیخ رشید نے اپنے جواب میں کہاجس کی طرف دیکھو بے نامی دار ہیں، شریف فیملی پاناما سے اقامہ تک پہنچ گئی ¾وزیراعظم نے تو دبئی والوں کو بھی چونا لگایا، اقامہ لیتے وقت دبئی والوں کو نہیں بتایا کہ میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں، آج ڈبہ لے آئے ہیں میں تو ایسے ڈبے میں چندہ ڈالتا ہوں، منی ٹریل مانگ مانگ کرعدالت تھک گئی، یہاں تک کہا گیا لاؤ منی ٹریل، کلین چٹ دے دیں، یہاں تک کہا گیا لاؤ منی ٹریل، کلین چت دے دیں، اگر ان کو اقامے پسند ہیں تو وہاں چلے جائیں، ہماری جان چھوڑدیں، وزیراعظم دوبئی میں مارکیٹنگ مینیجر ہیں، لگتا ہے قطری کو بھی خط ڈالنے کی عادت ہو گئی ہے ¾ میرا کیس 62,63 کاہے۔شیخ رشید نے کہا کہ قطری خط نکال دیں تو ان کے پاس رہ کیا جاتا ہے، میں نمازوں میں دعا مانگتا ہوں یا اللہ شیخ عظمت سعید بیمار نہ ہو جائیں ¾ نواز شریف نے اپنے بچوں کے بیانات تسلیم کر کے اچھی بات کی ہم کوئی بھکاری ملک نہیں جب کہ جے آئی ٹی نے قطری کو کہا یہاں آجائیں انہیں سلیوٹ کرتاہوں۔ شیخ رشید نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پر منی لا نڈرنگ ¾کسٹم ایکٹ، فارن ایکسچینج ایکٹ اور امپورٹ ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ لگایا جائے جس پر جسٹس عظمت شیخ نے استفسار کیا کہ شیخ رشید صاحب آپ کہیں موٹر وہیکل ایکٹ نہ لگا دیں۔جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے جواب میں کہا کہ جے آئی ٹی کی سفارشات کے بعد تمام شکوک و شبہات دورہو چکے ہیں ¾دو ججز پہلے ہی نااہلی کا فیصلہ دے چکے ہیں، عدالت نے نواز شریف کی نا اہلی کا جائزہ لینے کا حکم دیاتھا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ عدالت کا حکم تھا ¾نہ واپس لیا نہ لیں گے، ہم پہلے ہی نااہلی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ گارنٹی دیتے ہیں نااہلی کا معاملہ زیرغورلائیں گے۔بعد ازاں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائےگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.