مغل شاہی عوام کے پیسے پر نہیں ہونی چاہیے سپریم کورٹ

اسلام آباد(جدت ویب ڈیسک )سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمہ میں عدم پیشی پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کی تنخواہ اور مراعات پائی کورٹ کے جج کے برابر ہیں جبکہ اڑھائی لاکھ روپے فی کیس الگ سے بھی ملتے ہیں، نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ مستقبل میں ان مراعات کا حوالہ نہیں دیا جس سکتا، مغل شاہی عوام کے پیسے پر نہیں ہونی چاہیے، غریب آدمی تو ٹماٹر اور لہسن پر بھی ٹیکس دیتا ہے، ہم کام کر رہے ہیں اور کے پی کے سرکاری وکلا عید کیلئے گھروں کو چلے گئے، عدالت کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے، وکلا نے چند سال میں فیسوں میں بے پنا اضافہ کر دیا، فیسوں میں اضافے پر سرکاری وکلا کو بھاری معاوضہ دینا پڑا، ریکارڈ کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس بھی ملا تھا۔ بعد ازاں جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے سرکاری وکلا کی عدم حاضری پر ملزمان وحید اور ملوک کی ضمانتیں منظور کر لیں ۔ یاد رہے کہ دونوں ملزمان پر تین افراد کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.