سیاسی جماعتیں ذاتی پراپرٹیاں بن گئی ہیں‘سراج الحق

لاہور جدت ویب ڈیسک امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جماعت اسلامی کی کرپشن کے خلاف تحریک نے ہوائوں میں اڑنے والے حکمرانوں کو جی ٹی روڈ پر عوام کے درمیان لاکھڑا کیاہے اب ضرورت ہے کہ احتساب کا یہ عمل ایک خاندان تک محدود نہ رہے بلکہ پانامہ سکینڈل میں ملوث 436 لٹیرں اور بنکوں سے قرضہ لے کر ہڑپ کرنے والوں کو بھی سپریم کورٹ احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرے اور بیرون ملک بنکوں میں لوٹ مار اور چوری کی گئی قومی دولت کو ملک میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ، لوٹے گئے قومی سرمائے کے 375 ارب ڈالر ملک میں آجائیں تو عوام کو تعلیم ، صحت اور چھت کی سہولتیں مفت دی جاسکتی ہیں اور لاکھوں بے روزگار نوجوانوںکے لیے روزگار کا انتظام ہوسکتاہے ، اوورسیز پاکستانی سالانہ بائیس ارب ڈالر کما کر ملک میں بھیجتے ہیں ۔ 2018 ئ کے انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دیا گیا تو ان انتخابات نامکمل ہوں گے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلانے اور بیرون ملک درپیش مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آواز بلند کرے گی ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار سے لیاقت بلوچ ، حافظ محمد ادریس ، عبدالغفار عزیز اور دنیا بھر کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کی ۔سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ یہاں خاندانوں کی حکومت ہے ۔ سیاسی جماعتیں ذاتی پراپرٹی بن گئی ہیں ۔ حقیقی جمہوریت کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے ۔ انہوںنے کہاکہ بیرون ملک 90 لاکھ پاکستانیوں کے ووٹ اس قابل ہیں کہ پاکستان میں کرپشن فری حکومت قائم کرنے میں مدد گار ہوسکتے ہیں کیونکہ بیرون ملک پاکستانی کسی دبائو کے بغیر اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے ۔ جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان کی جو مہم شروع کر رکھی ہے ، بیرون ملک مقیم پاکستانی اس میں ہماری مدد کریں ۔ جماعت اسلامی ان تمام لوگوں جن کے نام پانامہ سکینڈل میں ہیں ، کا محاسبہ کرنے کے لیے عدالت جائے گی جنہوں نے بنکوں سے قرضے لے کر ہڑپ کیے ہیں اور جن کی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی بیڑیاں پہنائی گئی ہیں ۔ ہم ان کے ذاتی مفادات اور لوٹ مار کی وجہ سے مقروض ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے سفیر ہیں ۔ ہم نے تین دن ان کے ساتھ مشاورت کی ہے اور طے کیاہے کہ کشمیر کے مسئلے کو بیرون ملک اجاگر کیا جائے گا ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے جو مسائل ہیں ، ہم حکومت کو پہنچائیں گے ۔ پاکستان کی موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے کوئی مفید پالیسی نہیں بنائی جس سے ان کو حوصلہ ملے۔ سفارتخانوں کی موجودگی کے باوجودوہ بے یارو مدد گار ہیں ۔ ان سے سفارتخانوں کا کوئی رابطے کا نظام نہیں ۔ عائشہ گلا لئی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ میں خواتین کو ڈسکس نہیں کرناچاہتاکیونکہ یہ ہمار ا کلچر نہیں ہے ۔ سیاست میں شائستگی نہیں ہے ۔ سیاسی و نظریاتی اختلافات کو گالم گلوچ اور ذاتی عناد کا رنگ دینے کی نہ ہمارا مذہب اجازت دیتاہے اور نہ تہذیب اس کی اجازت دیتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے کارکنوں کو نصیحت کرتاہوں کہ گالی دینا جماعت اسلامی کا طریقہ نہیں ہے ۔سوشل میڈیا اور ٹی وی ٹاک شوز میں جو زبان مخالفین کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے ، وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔عائشہ گلا لئی کو جماعت میں شمولیت کی دعوت دینے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ ایسی اطلاع دینے پر میں میڈیا کا شکر گزار ہوں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے جو لوگ عدالتوں کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے ، وہ عدالتوں کو کمزور اور آمریت کی راہ ہموار کر رہے ہیں ۔ پاکستانی قوم عدالتوں کے ساتھ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.