آئندہ انتخابات کے لئے نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے، ڈاکٹر شیریں مزاری

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ہماری چار تجاویز منظور نہ ہوئیں تو بل کا کوئی فائدہ نہیں‘ آئینی ترامیم اور بل ساتھ پیش ہونا چاہیے تھا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابات بل 2017ئ کی تحریک پر بات کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری جماعت نے بہت محنت سے انتخابی اصلاحات کے لئے کام کیا ہے۔ آئینی ترامیم اور بل ساتھ پیش ہونا چاہیے‘ حکومت چاہتی تو دونوں چیزیں ساتھ کر سکتی تھی۔ زاہد حامد نے کمیٹی میں بہت تحمل کا مظاہرہ کیا ہے‘ ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور نادرا سے ہمیں جو مطلوبہ تعاون ملنا چاہیے تھا وہ نہیں ملا۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے اس کا فیصلہ کیا تھا لیکن معلوم نہیں کیا وجوہات ہیں کہ اب پھر پائلٹ پراجیکٹ کی بات ہو رہی ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن کی بجائے آئندہ انتخابات کے لئے نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔ نگران حکومت کے لئے کئی تجاویز بل میں آئی ہیں۔ نگران حکومت 50 فیصد اپوزیشن اور 50 فیصد حکومت کی تجاویز سے تشکیل ہونی چاہیے۔ الیکشن کے دن بائیو میٹرک ویری فیکیشن کا نظام ہو نا چاہیے۔ یہ تجویز معلوم نہیں بل کا حصہ کیوں نہیں بن سکی۔ ہماری چار تجاویز منظور ہونے تک بل کا کوئی فائدہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.