امریکی صدر کے الزامات خارجہ پالیسی نہ ہونے کا نتیجہ ہے ، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اور پاکستان کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات حکومت کی عدم توجہ اور ملک خارجہ پالیسی نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اس وقت ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خارجہ پالیسی ہے کیونکہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے تو حکومت پاناما لیکس پر وضاحتیں پیش کرنے میں لگی ہے۔انھوں نے کہا کہ خارجہ امور پر حکومت غفلت کی نیند سو رہی ہے اور پاکستان کی سلامتی کا تحفظ کرنے کے بجائے ملکی مفادات کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ پہلے تین سال تو سرتاج عزیز خارجہ تعلقات پر صرف ملاقاتوں میں پاکستان کا مؤقف پیش کرنے میں مصروف رہے اور اب انہیں کمیشن برائے منصوبہ بندی کا ڈپٹی چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے امریکی صدر کے الزامات کے بعد آج ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اجلاس پہلے ہونے چاہیے تھے تاکہ یہ حالات ہی پیدا نہ ہوتے۔انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خارجہ امور جیسے سنگین مسئلے پر حکومت نے ابتدائ سے خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور اب جب کہ شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا ہے تب اس پر بات کرنا فضول ہے، کیونکہ انہیں حالات کا کچھ اندازہ ہی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.