ایک پاکستانی ارب پتی بزنس مین کیسے بنا ؟؟

جدت ویب ڈیسک:دنیا میں امیر ترین مانے جانے والے بیشتر افراد کا تعلق امریکہ سے ہے اور پوری دنیا میں اس وقت سینکڑوں افراد اس فہرست میں شامل ہیں۔دنیا کا مشہور و معروف میگزین Forbesاپنے ٹائٹل پر انہی افراد کو شائع کرتا ہے جو ایک خاص معیارکے اثاثہ جات رکھتے ہوں اور یہ بات بھی مشہور ہے کوئی فرد اس وقت تک ارب پتی تصور نہیں کیا جاتا جب تک وہ اس میگزین کے ٹائٹل کی زینت نہ بنے۔ اس میگزین کے جنوری 2017کو شائع ہونے والے شمارہ میں دنیا کے 400امیر ترین افراد کی لسٹ بھی شائع کی گئی جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت بھی موجود تھی جس کی زندگی واقعی امتحانات اور معرکوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے وہ مقام حاصل کیا جس کا تصور بھی ناممکن ہے اور جس کو سننے کے بعد ہر محب وطن کو ان پر رشک ہوگا۔ اس شخصیت کو آج دنیا شاہد خان کے نام سے جانتی ہے اسی میگزین کی رپورٹ میں انہیں امریکہ میں 84ویں جبکہ پاکستان کے پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر ان کی ریکنگ 360ہے۔ شاہد خان نے 1950میں لاہور کے ایک متوسط طبقہ کے گھرانے میں آنکھ کھولی اور ان کے آبا و اجداد فن تعمیر کے شعبہ سے منسلک تھے ۔ شاہد خان انتہائی کم عمری میں اسٹڈی ویزہ پر امریکہ چلے گئے اور دیار غیر میں شروع کے ایام بڑی ہی کسمپری میں گزارے،سب سے پہلی جاب ایک چھوٹے سے ہوٹل میں لگی جس کی اجرت انہیں 1.2ڈالر ملتی تھی جو 120پاکستانی روپے بنتے ہیں جہاں یہ ڈش واش کیا کرتے تھے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہاں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا ملازم اور کہاں امریکی ریاست کا ملٹی بلینر… یہ سفر کس قدر کٹھن،دشوار اور مشکل رہا ہوگا۔ انہوں نے یہ نام شہرت اور دولت کیسے کمائی اس کو جان کر جہاں ایک طرف آپ کا سر فخر سے بلند ہوگا تو وہیں آپ میں ایک نیا حوصلہ اور جذبہ اور کچھ کرنے کی لگن پیدا ہوگی۔شاہد خان نے 1967میں انتہائی کم عمری میں امریکہ کیلئے رخت سفر باندھا جب یہ محض 16سال کے تھے۔ ان کی والدہ شعبہ تدریس سے وابستہ تھیں اورریاضی پڑھاتی تھیں۔ ابتدائی ایام انتہائی پریشان کن تھے۔ شاہد خان کے مطابق جب وہ امریکہ آئے تو ان کے سامنے دو راستے تھے کہ یا تو وہ چند ڈالرز کی نوکری کرتے اور آئندہ کی زندگی انہی چند ڈالرز کی نذر کردیتے جبکہ دوسرا آپشن یہ تھا کہ اپنی تعلیم جاری رکھتے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کوئی باعزت شعبہ حاصل کرتے۔ یہاں آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ امریکہ میں غیر مقامی طلبہ کے لئے تعلیم شروع سے ہی انتہائی مہنگی رہی ہے مگر ان تمام ترحالات کے باجود انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی،ان کے سامنے دو انتہائی دشوار گزار مرحلے تھے یعنی ایک جانب تو اجرت انتہائی کم جبکہ دوسری جانب تعلیم انتہائی مہنگی،مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور یونیورسٹی آف ریلینوائس کالج آف انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا اور یہاں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ FLAX N GATE نامی ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی یہاں گاڑیوں کے اسپئر پارٹس تیار کئے جاتے تھے۔ شاہدخان نے 1971ء میں گریجویشن مکمل کی تو اس کمپنی میں ان کی ترقی ہوگئی اور یہ ڈائریکٹر کے عہدہ پر فائز ہوگئے،نوکری کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ پک اپ ٹرکس کیلئے کسی کمپنی نے آج تک ون پیس بمپر تیار نہیں کیا اور سفر کے دوران دیگر کمپنیوں کےدو تین ٹکڑوں پر مشتمل یہ بمپر کھل کر ناکارہ ہوجاتے، لہٰذا انہوں نے کمپنی سے استعفیٰ دیا اور اسمال بزنس کارپوریشن سے پچاس ہزار ڈالر لون لے کر 1978میں اپنا کاروبار شروع کیا اور ون پیس بمپر بنانے لگے۔ ان کا آئیڈیا کامیاب ہوا اور ان کی کمپنی کے تیار شدہ بمپر بہت جلد مشہور ہوگئے اور یہ مقبولیت اس درجہ پر تھی کہ انہوں نے محض دو سالوں میں جس کمپنی میں دوران طالب علمی ملازمت کیا کرتے تھے وہ خرید لی،جی ہاں FLAX N GATEنامی کمپنی انہوں نے 1980میں خرید لی اور امریکہ کی تین بڑی آٹو موبائل کمپنیوں کے آرڈر تیار کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہرت مزید بڑھی اور دنیا کی مشہور و معروف کمپنی TOYOTAنے1984 میں ان کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرلیااور 1987تک ٹویوٹا پک اپس کیلئے ون پیس میں بمپر بنانے والی ان کی واحد کمپنی تھی جبکہ 1999 میں انہیں ٹویوٹا کی تمام گاڑیوں کے بمپر بنانے کا آرڈر مل گیا۔یہ واقعی ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور وہ امریکی صنعتکاروں کی فہرست میں اوپر آتے چلے گئے۔ 2011کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی کمپنی میں 12ہزار سے زائد ملازمین برسرروزگار تھے جبکہ مینوفیکچر نگ پلانٹس کی تعداد 48تھی-2011 میں ہی انہوں نےامریکہ کا ایک بہت بڑا JAGUARS فٹبال کلب 76کروڑ ڈالر میں خرید لیاجوکہ امریکی کی قومی فٹبال لیگ ہے۔Forbesمیگزین نے 2012ستمبر کے شمارہ کے ٹائٹل پر انہیں شائع کیا اور انہیں دنیا کے ارب پتیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نےلندن کےایک بڑافٹ بال کلب2013کو 200ملین یورو کی خطیر رقم سے خریدا ۔ 66سالہ شاہد خان فلوریڈا میں رہائش پذیر ہیں ان کا نک نیم شاد خان ہے۔تعلیمBsمیکینکل انجینئرنگ جبکہ کل اثاثہ جات 8.6ارب امریکن ڈالرز ہیں جن کی مالیت 9کھرب 21ارب روپے بنتی ہے جبکہ اس میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔شاہد خان کے حالات زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حالات کیسے ہی ہوں مناسب سمت کا تعین کرنے کے بعد انتہائی لگن او ر محنت سے اس پر چلنے سے بالآخر کامیابی ہمارے قدم ضرور چومتی ہے ۔ امید ہے آپ کو رپورٹ پسند آئی ہوگی،مزید دلچسپی اور معلوماتی رپورٹس کیلئے ہماری سائٹ کو سبسکرائب کریں اور اچھی اچھی پوسٹیں اپنے دوستوں سے بھی شیئر کیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.