گلستان جوہر رمشا ایونیو کی چھت پر آٹھویں منزل کی غیر قانونی تعمیرات

کراچی جدت ویب ڈیسک سپریم کورٹ کی جانب سے دو منزلہ سے زیادہ اونچی تعمیرات پر پابندی کے باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی زیر سرپرستی گلستان جوہر کے مختلف علاقوں میں نہ صرف نئی غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں بلکہ پرانی عمارات پر بھی اضافی فلور تعمیرکیے جارہے ہیں ۔ گلستان جوہر بلاک 13میں واقع 7منزلہ رمشا ایونیو کی آٹھویں منزل کی تعمیر SBCAکے افسران کی ملی بھگت سے جاری ہے ۔ تفصیلات کے مطابق رمشا ایونیو کی تعمیر 2005میں مکمل ہوگئی تھی اور 2007میں قبضہ بھی دے دیا گیا مگر علاقہ میں پراپرٹی کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث بلڈر حاجی رفیق پٹیل نے چند ہفتہ قبل آباد عمارت کی چھت پر آٹھویں منزل کی تعمیر شروع کردی جس سے عمارت کے مکین بھی شدید اذیت کے شکار ہیں جبکہ روزنامہ جدت سے گفتگو کرتے ہوئے علاقہ مکینوں نے بتایا کہ بلڈر حاجی رفیق اور ان کے چوکیدار بلڈنگ کے مکینوں کو تنگ کرکے فلیٹ واپس خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کئی مکینوں کو ڈرا دھمکا کر فلیٹ واپس خریدے جا چکے ہیں جبکہ اپنے فلیٹ فروخت نہ کرنے والوں کو پانی و بجلی کی فراہمی بند کر کے عمارت چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے جبکہ عمارت کے بالائی فلور پر مشکوک قسم کے افراد کی آمد ورفت بھی مسلسل جاری رہتی ہے ۔رمشا ایونیو کے مکین خوف کی فضا میں اپنے بچوں کو پروں میں چھپائے پریشا ن مصائب کے ڈھیر پر انصاف کے منتظر ہیں، مکینوں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ، گورنر سندھ ، وزیراعلیٰ سندھ ، کورکمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز، چیئرمین نیب، ڈی جی اینٹی کرپشن سے فوری مداخلت کی اپیل ہے، مکینوں کا کہنا ہے کہ بلڈرز کو متعلقہ پولیس کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔واضح رہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے 6ستمبریوم دفاع کے موقع پر واضح اعلان کیا تھا کہ اداروں کی مضبوطی کے بغیر ملک ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتاجبکہ دوسری جانب اداروں کے محافظ ہی لٹیرے بنے ہوئے ہیں، مکینوں نے ایس بی سی اے کے ڈی جی آغا مقصودعباس کیخلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ ناقص تعمیرات کے باعث فلور پر دھمک کی آواز آتی ہے جبکہ اب آٹھویں فلور کی تعمیر کے باعث مکینوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ علاقہ مکینوں نے حکومت سندھ اور سندھ رینجرز سے حاجی رفیق کے مخصوص فلیٹوں میں قیام کرنے والے مشکوک افراد کی تحقیقات اور اضافی فلور پر تعمیرات بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی عمر بھر کی کمائی سے اپنے بچوں کیلئے ایک چھت خریدی ہے اب وہ کہاںجائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.