نظام تعلیم پر قابض ٹولہ ا ور ہمارا کردار

تعلیم ایک ایسا جوہر ہے جو انسان کو ظلمت و تاریکی کے غار سے نکال کر روشن شاہراہ اور بلندی پرپہنچاتاہے،تعلیم سے انسان اور اقوام میں بیداری پیدا ہوتی ہے،صحیح سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے،اچھے اور برے کی تمیز کا احساس بیدار ہوتا ہے،اسی تعلیم ہی کے ذریعہ اللہ نے انسانوں کو تمام مخلوقات پر اشرفیت و فضلیت بخشی ہے اور تمام بنی انسان کے باپ دادا حضرت آدم ؑ کو اسی کے ذریعے فرشتوں پر فوقیت دی۔ تعلیم عربی زبان کا لفظ ہے جو علّم َ یعلّم تعلم سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ ہیں کسی کو کچھ سکھانا،پڑھانا، بتانا،تلقین کرنا یا رہنمائی کرنا ۔عام طور پر تعلیم کو انگریزی کے لفظ ایجوکیشن کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے ،مگر صحیح معنی میں ایجوکیشن کی مکمل ترجمانی صرف تعلیم سے نہیں ہوپاتی ۔لفظ ایجوکیشن دراصل لاطینی لفظ ایڈوکو(Educo)سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کسی انسان یا بچے کو خصوصی توجہ اور نگہداشت کے ساتھ پال پوس کر بڑا کرنا ۔اس مناسبت سے ایجوکیشن کا مطلب ہوگاکسی بچے کی پرورش ، اس کی دماغی، جسمانی اور اخلاقی تربیت کرنا۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایجوکیشن کا مفہوم صرف تعلیم سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت سے ہے۔ تعلیم کی اہمیت وضرورت اور اس کے فوائدسے دنیا کے کسی ذی شعور کو انکار نہیں ،کیونکہ تعلیم پر قوم و ملّت کی تعمیر و ترقی کا ہی انحصار نہیں بلکہ اس میں قوم کے احساس و شعور کو جلا بخشنے کی قوت بھی پنہاں ہیں ۔اگر آپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا دورہ کر کے اور اس کی شرح خواندگی کا جائزہ لیں گے تو آپ کے سامنے یہ سچ خود بخود واضح ہو جائے گا کہ قوم کی تعمیروترقی میں تعلیم کا کردار کس قدر اہم ہے اور موجودہ دور میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے۔آج کے اس ترقی یافتہ اور پر فتن دور میں معاشرتی برائیوں و خرابیوں کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے جس کے خاتمے کی ہمیں ہر طرح کی ممکن کوشش کرنی چاہیئے اور تعلیم کے حصول میں انتھک کوشش اور محنت کرنی چاہئے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرا معاشرہ بن سکے۔اور اس کے باشندے امن و سکون اور الفت و محبت نیز بھائی چارگی کی زندگی کزار سکیں۔یہ تو بات ہو گئی تعلیم کے حصول کی اور جہاں تک بات ہے جہالت جوکہ علم کی ضد ہے جس سے معاشرے میں برائیاں اور بے حیائیاں جنم لیتی ہیں جو معاشرے میں ایک دیمک کے کردار کی طرح جانا جاتا ہے جو معاشرے کا سب سے بڑاکینسر اور مہلک بیماری جیسا ہے ایسے انسان کی اس دنیا میں کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی،اگر وہ معاشرہ میں زندہ بھی ہے تو لوگ اسے مردہ ہی سمجھتے ہیںلیکن ایک پڑھا لکھا باشعور شخص اپنی قابلیت و شرافت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے لوگ اس کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیںاور اسکی عزت کرتے ہیں ۔گویاعلم ہر موڑ پر انسان کے لئے مفید ہے اور جہالت صرف اور صرف تاریکی اور نقصان دہ ہے اسی جہالت کی بنائ پر آج بھی بہت سے دیہی علاقوں میں ایسی رسومات عام ہیں کہ جن کو مٹانا یا ختم کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتاجس میں و نّی اور ستّی اور قرآن سے شادی جیسی جہالت کی رسومات اپنے عروج پر آج بھی زندہ ہیں ، جہاں پر عزّت اور وقار کی بنیاد پر آج بھی اپنی بہن بیٹیوں کو قربان کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں ۔اور جہاں تک بات آتی ہے ہمارے معاشرے کی تربیت کی بلکہ یہ کہنا ممکن ہو گاکہ ہم بد قسمتی سے ایک ایسے معاشرے میں پرورش پا تے ہیں جہاں پر ہر حال میں جی حضوری کرنا سکھایا جاتا ہے ،دوسروں کی اور بڑوں کی منظوری حاصل کر کے اور ان کی بات مان کر اور ان کی توقعات پر جب بچہ پورا اترتاہے توان کے نزدیک ایسا بچہ بہت شریف، نیک اورتابعداراور اچھے خاندان کا چراغ کہلاتا ہے ۔جی حضوری کے نتیجے میں بچہ خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے اور اس کا وجود دوسروں کی رائے کا محتاج ہو جاتا ہے یہاں تک کہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ بچہ اپنی نہیںبلکہ دوسروں کی زندگی جینا شروع کر دیتا ہے ۔جب ایک بچہ اپنے گھر سے اسکول کا سفر طے کرنے کے لئے نکلتا ہے تو اسے شروع میں ہی سمجھا دیا جاتا ہیکہ جیسا استاد کہیں گے ویسا ہی کرنا آگے سے کچھ کہنے کی غلطی مت کرنا اس کا مطلب وہ اسکول پہنچتے ہی باقاعدہ دوسروں کی منظوری و خوشنودی حاصل کرنے کی تربیت کا آغاز شروع کر دیتا ہے ۔ اسکولوں میں یہ سکھایا جا رہا ہوتا ہیکہ کسی قسم کے معاملے میں بھی اپنے آپ پر اعتماد نہ کریں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کی بھی اجازت طلب کریں ،جیسا کہ میڈم میں اس جگہ پر بیٹھ جائوں ، میڈم میں اندر آجائوں،سر میں پانی پی لوں وغیرہ وغیرہ۔ہماری درسگاہیں یہ نہیں سکھاتیں کے بچے خود غوروفکر سے کام لیں وہاں تو صرف ہدایات جاری ہوتی ہیں اور تمام بچوں کو ان پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنا پڑتا ہے۔اور اگر کوئی بچہ کبھی ہمت کر کے کوئی سوال پوچھ بھی لے تواسکو ایسے لہجہ میں جواب دیا جاتا ہیکہ وہ آئندہ سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا۔بلکہ اساتذہ کو چاہئیے کہ بچے میں خود مختاری کا حوصلہ پیدا کریں، غلط کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دیں اور اپنے حوصلے سے ہر چیز میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں تاکہ ان میں ایک خود مختاری پیدا ہو ایک جذبہ اپنے آپ کو ابھارنے کی جدوجہد میں ہر وقت مصروف رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.