پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے باعث دوہزاربیس تک اس کی تیاری اور فروخت پر پابندی کا فیصلہ کرلیا

جدت ویب ڈیسک :بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اجلاس میں ماہرین خوراک اور طبی ماہرین نے شرکت کی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے باعث 2020 تک اس کی تیاری اور فروخت پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔اس موقع پر پنجاب فوڈ اتھارٹی سے وابسہ سائنسدانوں کے نگراں پینل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ صنعتی سطح پر بناسپتی گھی کی تیاری میں بڑی مقدار میں پیلمیٹک ایسڈ، ٹرانس فیٹی ایسڈ اور نکل دھات شامل ہے جس کے انسانی جسم پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت اثرات کے باعث بناسپتی بنانے والی کمپنیوں کو متبادل پیداوار کے لئے تین سال کا وقت دینے کی منظوری دی ہے جس کے بعد 2020 تک پنجاب میں بناسپتی گھی پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔اجلاس کے دوران شرکا اس نتیجے پر پہنچے کہ بناسپتی گھی میں مضر صحت اشیا ذہنی و جسمانی امراض کے ساتھ، ذیابیطس، موٹاپے، دل کی بیماریوں سمیت کینسر جیسے امراض کا باعث بنتی سکتی ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نورالامین مینگل کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تیل اور گھی کا فی کس استعمال سالانہ 18 کلو گرام ہے جب کہ یورپ میں یہ مقدار تین کلو گرام ہے۔نورالامین مینگل نے زور دیا ہے کہ عوام بناسپتی گھی کے بجائے زیتون، سویابین اور سورج مکھی کے تیل کا استعمال کریں۔فوڈ اتھارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ گھی میں ٹراسفیٹی ایسڈ کو اعشاریہ 5 فیصد تک محدود کردیا جائے گا۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.