ایس ایس پی تشدد کیس میں عمران خان خود پیش ہوئے، بریت اور استثنیٰ کی درخواستیں دائر

جدت ویب ڈیسک ::انسداد دہشتگردی کے جج شاہ رخ ارجمند نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ایس ایس پی تشدد عصمت اللہ جونیجو کیس کی سماعت کی ۔ عمران خان ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے درخواستوں کی سماعت کے لئے یکم مارچ کی تاریخ مقرر کی تو عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ 26 فروری کو پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہے ۔ بریت اور حاضری سے استثنیٰ کا معاملہ بھی اسی دن سن لیں ۔ عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست منظور کر لی اور دونوں درخواستوں کی نقول پراسیکیوشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26 فروری تک ملتوی کر دی ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان عدلیہ پر پریشر ڈال کر این آر او لینا چاہتا ہے ۔ نواز شریف کا مقصد صرف سزا سے بچنا ہے ۔ ساری حکومت کرپشن کے گاڈ فادر کوبچانے میں لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ نے ووٹرز کو بدلنے کیلئے بہت پیسہ لگایا ۔دوران سماعت عمران خان بولے کہ ایک شخص سیاسی جدو جہد کرے تو اس پر دہشت گردی کے مقدمات بنا دیئے جاتے ہیں جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے اردگرد بہت سے وکلاء ہیں ۔ عدالت نے طریقہ کار اور قانون کے تحت چلنا ہے ۔ عمران خان کے وکیل شاہد نسیم گوندل نے اپنے موکل کی جانب سے بریت اور استثنیٰ کی درخواستیں دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 265 کہتا ہے کہ ملزم کو فرد جرم کے بجائے کسی بھی وقت بری کیا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.