Journalist poet, broadcaster, travel writer and film maker.

ہمیشہ ہنسانے والا افتخار قیصر مداحوں کو روتا چھوڑدیا

پشاور جدت ویب ڈیسک پاکستان ٹیلی ویژن پر چالیس سال تک اداکاری کے جوہر دکھانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار افتخار قیصر 61 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔تفصیلات کے مطابق افتخار قیصر شدید علالت کے باعث گزشتہ چند روز سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج تھے، وہ برین ٹیومر کی بیماری میں مبتلا تھے جب کہ ان کے جگر نے بھی کام کرنا بند کردیا تھا ان کے بیٹے حاجب حسنین کے مطابق وہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔چند روز قبل ملک کے نامور اداکار اور شاعر افتخار قیصر کو انتہائی تشویشناک حالت میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیا تھاجہاں وہ تقریباً 12 گھنٹوں تک بے یارو مددگار پڑے رہے تھے ایمرجنسی وارڈ میں موجود ڈاکٹرز نے یہ کہہ کر ان کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا کہ سینئر ڈاکٹرز کی غیر موجودگی میں وہ ان کا علاج نہیں کرسکتے ، سوشل میڈیا پر اسٹریچر پر بے ہوش پڑے افتخار قیصر کی ویڈیو وائرل ہونے اور میڈیا پر ان کی بیماری کی اطلاع آنے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے ان کا علاج شروع کیا جبکہ صوبائی وزرا نے بھی ذرائع ابلاغ پر خبر نشر ہونے کے بعد نوٹس لیابعد ازاں انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری تھا۔افتخار قیصر کے بیٹے حاجب حسنین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی بے توجہی کے باعث ان کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا گیا ان کے والد ملک کے ناموراداکار ہیں اور ہسپتال انتظامیہ نے انہیں کھلے آسمان تلے اسٹریچر پر بے یارو مددگار ڈال دیا، انہوں نے حکومت سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے لہٰذا ان کی مدد کی جائے۔ گزشتہ دنوں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے متعلقہ حکام کو افتخار قیصر کی دیکھ بھال کی ہدایت دی تھیں۔واضح رہے کہ صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار افتخار قیصر پاکستان ٹیلی ویڑن پشاور سینٹر پر اپنا مقبول پروگرام ہندکو زبان میں پیش کرتے تھے، ان کا پروگرام’’اب میں بولوں کہ نہ بولوں‘‘ انتہائی مقبول تھا، اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویڑن کے پروگرام ’’حرفیوں‘‘ اور’’مخصوص مکالمے‘‘ سے بھی ملک گیر شہرت حاصل کی تھی۔وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے نامور فنکار افتخار قیصر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ افتخار قیصر ہندکو، پشتو اور اردو کے عظیم اداکار تھے۔ ایک بیان میں وزیر مملکت نے کہاکہ آج پاکستان ایک عظیم اور مقبول عوامی فن کار سے محروم ہوگیا ہے انہوںنے کہاکہ فن کےلئے ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا ¾ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا آسانی سے پر نہیں ہو سکتا۔ وزیر مملکت اطلاعات نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر جمیل کی دعا کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.