مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ کا وزیراعظم کو خراج تحسین

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تنازعہ کشمیر سمیت تمام علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جبکہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے، پاکستان نے دنیا بالخصوص خطہ کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کیلئے بے مثال قربانیان دی ہیں، سی پیک علاقائی رابطہ کا منصوبہ ہے جس سے خطہ کے عوام کیلئے ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کی چیئرپرسن سینیٹر نزہت صادق نے وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی سے متعلق پارلیمنٹ نے پاکستان کا ردعمل مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بڑی مالی و جانی قربانیاں دی ہیں، ان کا اعتراف نہ کرنا نامناسب بات ہے۔ اس حوالہ سے امور خارجہ کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا گیا اور اس صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ حکومت نے اس حوالہ سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے سفیروں کی کانفرنس طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرتا ہے لیکن ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کیا ڈومور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سول ملٹری قیادت اور دیگر تمام فریقوں کا مؤقف یکساں ہے۔آپریشن ضرب عضب اتفاق رائے سے شروع کیا گیا جبکہ ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے، اس منصوبہ سے نہ صرف خطہ بلکہ وسط ایشیائی ملکوں تک روابط کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ملکوں اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ اور اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نکتہ نظر کو جس انداز میں پیش کیا وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے حوالہ سے بھارت کے عزائم بے نقاب کئے ہیں بلکہ وہ امریکا اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو بھی سامنے لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی قیادت سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر، روہنگیا مسلمانوں پر مظالم اور جنوبی ایشیائی خطہ کو درپیش چیلنجز پر بات کی ہے، امریکا کو پاکستان کے حوالہ سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، صرف مذاکرات کے ذریعے ہی تنازعات حل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ میں بہتری آئی ہے، مستحکم اور پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تین ملین افغانیوں کی میزبانی کی ہے، اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ افغان باعزت طریقہ سے اپنے وطن واپس جائیں جبکہ اس سلسلہ میں ہماری کوششوں اور اقدامات کا بھی اعتراف کیا جانا چاہئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے چیئرمین ملک ابرار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی دوہرے معیار کی عکاس ہے، امریکی صدر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سرے سے نظر انداز کر رہے ہیں جبکہ بھارت کو علاقائی بالادستی دلوانے کیلئے سرگرم ہیں حالانکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جبکہ وہ پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی۔ سینیٹر نجمہ حمید نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جامع خطاب کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو مو ¿ثر انداز میں عالمی فورم پر اجاگر کیا جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مالی و جانی قربانیوں اور کامیابیوں کو بھی مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جا رہا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں پر آنکھیں بند کر لی ہیں وہ صرف بھارت کی زبان بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالہ سے ایک نیا بیانیہ سامنے آیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف پوری طاقت سے بلاامتیاز جنگ شروع کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.