PMLN

نوازشریف کا وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کرنے کا فیصلہ

لندن / اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سابق وزیر اعظم نوازشریف نے فو ری وطن واپسی اور عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے وہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ہمراہ آج صبح 8بجے اسلام آباد پہنچیں گے جبکہ کل 26 ستمبر کو نیب عدالت میں پیش ہوں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وطن واپسی کا فیصلہ اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقات میں کیا گیا ہے، سابق وزیرِ اعظم محمد نواز شریف کے زیر صدارت لندن میں لیگی رہنماؤں کی ایک اور اہم بیٹھک ہوئی ،جس میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سمیت اہم رہنما شریک ہوئے ۔اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے نواز شریف کو پاکستان میں ملاقاتوں سے آگاہ کیا۔ اجلاس کے دوران شریف فیملی کو عدالتی معاملات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ قبل ازیں نواز شریف اور شہباز شریف کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ ن کے سیاسی مستقبل اورآئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو پاکستان کے سیاسی حالات اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لندن جانے سے قبل مولانا فضل الرحمان، چوہدری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ حارث سمیت دیگر اہم رہنماؤں سے سیاسی امور اور ملکی سیاسی حالات پر صلاح مشورہ کیا تھا جبکہ ایک غیر سیاسی شخصیت سے بھی ان کی اہم ملاقات ہوئی تھی۔پیآئی اے اور لندن ہائی کمیشن ذرائع کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف پی آئی اے کی پرواز پی کے 786 کے ذریعے کل صبح وطن واپس پہنچیں گے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی پرواز صبح 8 بجے اسلام آباد لینڈ کرے گی۔ وطن واپسی کا فیصلہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے ساتھ گزشتہ صبح ناشتے پر نواز شریف کی ملاقات میں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وطن واپس آکر نواز شریف احتساب عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرینگے۔ نواز شریف آج اسلام آباد پہنچنے پر اپنے لیگل ایڈوائزرز سے ملیں گے اور بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے بھی پاکستا آکر ریفرنسز کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق خود وزیرِ اعظم عباسی نے بھی کی ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیرِ اعظم نے بتایا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ان کے ہمراہ وطن واپس جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کچھ پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کو نیب عدالت میں پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا تاہم اس کے باوجود انہوں نے پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف اپنے شیڈول کے مطابق 28-30 ستمبر کے درمیان وطن واپس آئیں گے جبکہ مریم، حسن اور حسین نواز لندن میں والدہ کلثوم نواز کے ساتھ ہی رہیں گے۔ وطن واپسی کے بعد نواز شریف اعلیٰ سطح کا سیاسی اجلاس بھی طلب کریں گے۔ اور ن لیگ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔اس حوالے سے مسلم ن کے ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں نواز شریف کی وطن واپسی کی تصدیق کی۔مشاہد اللہ نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی رہنما ہیں اور پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے آرہے ہیں، وہ ن لیگ اور پاکستانی عوام کے قائد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی کے ساتھ ہی لندن سے بیٹھ کر پارٹی چلانے کی باتیں غلط ثابت ہوگئیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لندن پہنچنے سے قبل لیگی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار تاحال وطن واپس نہیں آئیں گے لیکن شہباز شریف کی لندنآمد کے بعد منظر مکمل طور پر تبدیل ہو گیا اور نواز شریف اور اسحاق ڈار نے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ یادرہے کہ نوازشریف 31 اگست کو لندن پہنچے تھے جہاں ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا علاج جاری ہے۔ نواز شریف نے عید الاضحیٰ بھی لندن میں ہی منائی تھی اور ان کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے دوران بھی وہ لندن میں ہی موجود تھے۔ دوسری جانب، تیسری سرجری کے بعد کلثوم نواز کی حالت بھی کافی بہتر ہو چکی ہے جس کے بعد اب نواز شریف کیلئے وطن واپسی ناممکن نہیں رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.