PMLN

پاکستان سے ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہوں‘خواجہ آصف

نیویارک جدت ویب ڈیسک وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ پاکستان پرحقانی نیٹ ورک ، حافظ سعید اور دیگر دہشتگردوں کو تحفظ دینے کا الزام نہ لگایا جائے ، یہ لوگ 20سے 25سال قبل کبھی امریکہ کے لاڈلے تھے اور وائٹ ہائوس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے ، 80 کی دہائی میں امریکا کا آلہ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے ، پاکستان کو ملک میں موجود شدت پسند عناصر پر قابو پانا ہے ، حوالے سے وہ ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہیں ، سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ بننا غلط فیصلہ تھا ، ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر موثر بارڈرمینجمنٹ کی ضروری ہے ، افغانستان میں امن اورسیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے ، امریکا جنگ کے ذریعے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، مذاکرات ہی کے ذریعے افغانستان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ، سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہوگی ، پاکستان بھارت کے ساتھ ملکر کام کر نے کو تیار ہے ۔ نیویارک میں ایشیائ سوسائٹی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اب امریکا پاکستان کو حقانی اور حافظ سعید کے حوالے سے ذمہ دار ٹھہرارہا ہے جبکہ یہ لوگ کھبی آپ کے لاڈلے تھے اور وائٹ ہاوس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے۔ پروگرام کے میزبان نے خواجہ آصف سے ماضی کو بھول کر مستقبل کی جانب دیکھنے کو کہا جس پر پاکستان کے وزیر خارجہ نے جواب دیا کہ ماضی کو بھولنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ہمارے مستقبل اور حال کا ایک اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کہنا بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانی اور حافظ سعید کو تحفظ فراہم کررہا ہے ، پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کا الزام نہ لگایا جائے۔کسی ملک کا نام لیے بغیر انہوںنے کہاکہ انہیں حقانی اور حافظ سعید کو بعد میں پاکستان کے گلے کا ہار بنادیا گیا، کہ ہم پر بوجھ ہیں ، ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس بوجھ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کےلئے ہمارے پاس متبادل اثاثے موجود نہیں جبکہ آپ امریکا ہمارے بوجھ میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔خواجہ آصف نے مذکورہ پروگرام کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شیئر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس بوجھ کو اتارنے میں کچھ وقت لگے گا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر موثر بارڈرمینجمنٹ کی ضروری ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی افغان رہنما مفادات کےلئے کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ افغانستان میں امن اورسیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہاکہ امریکا جنگ کے ذریعے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، مذاکرات ہی کے ذریعے افغانستان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں غیر ملکی در اندازی، بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت، افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کررہا ہے۔وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاکہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اب تک گجرات سے باہرنہیں نکل سکی ہیں جبکہ بھارت میں 66 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں کام کررہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق وزیر خارزجہ خواجہ آصف نے تقریب کے میزبان ، امریکی صحافی سٹیو کول کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو ملک میں موجود شدت پسند عناصر پر قابو پانا ہے اور وہ تمام لوگ جو پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں ، انھیں ختم کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے وہ ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہیں۔پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 80 کی دہائی میں امریکا کا آلہ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ بننا غلط فیصلہ تھا ، ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا ۔ ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہاکہ سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہوگی۔خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں بھارت کے بارے میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے متعدد بار بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بشمول مسئلہ کشمیر تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن بھارمت نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔پاکستان بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ تمام تنازعات کو حل کیا جائے اور خطہ میں امن و استحکام قائم کیا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان پر الزامات لگانے سے پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ پاکستان کے مسائل اور مشکلات امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے بعد پیدا ہوئے جب پاکستان کو امریکہ نے بحیثیت آلہ کار استعمال کیا۔بلاشبہ ہم نے غلطیاں کی ہیں تاہم ہم اکیلے نہیں ہیں ان غلطیوں کو کرنے میں اور صرف ہمیں مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے ، امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد خطے کو ایسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا ، اس کے بعد سے ہم جہنم میں چلے گئے اور آج تک اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ گذشتہ 15 سالوں سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں پوست کے کاشت میں مسلسل اضافہ، طالبان کا کھوئے ہوئے حصوں پر واپس قبضہ، شدت پسند تنظیم داعش کی وہاں موجودگی اور ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے مسائل کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔خواجہ آصف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد کم ہونے سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان نے ملک میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کاروائی کی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اگر دیگر اور ممالک اس اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کو تیار ہیں تو اس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔سڑکیں بنیں گی ¾مواصلاتی ذرائع میں بہتری آئے گی اور یہ سب کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد دیں گی اور جب تجارت شروع ہوگی تو اختلافات میں کمی آئے گی اور دشمنیاں کم ہوں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.