قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری ،تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ,امریکا کی نئی افغان پالیسی میں الزام تراشیوں پر غور

اسلام آباد: تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس تین گھنٹے سے جاری ہے، اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہیں۔اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر دفاع خرم دستگیر خان سمیت قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر حکام بھی موجود ہیں۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے شرکا کو امریکاکی جنوبی ایشیاسےمتعلق پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا امریکی سفیر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، پاکستان نےدہشت گردی کیخلاف70ہزارجانوں کی قربانی دی، 100ارب ڈالرسےزیادہ کےوسائل دہشت گردی کیخلاف جھونکے افغانستان میں بھارتی کردار ہمیشہ منفی رہا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی قربانیوں کوعالمی برادری تسلیم کرتی ہے ، پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں اور دہشت گردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکی الزام تراشیوں کے خلاف جوابی حکمت عملی طے کی جائے گی۔گذشتہ روز وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ایک روزہ دورے پر سعودی عرب گئے تھے ، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد محمدبن سلمان سے ملاقات کی، وزیراعظم اورسعودی ولی عہد نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں جن کی سعودی عرب قدر کر تا ہے۔وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی معاونت جاری رکھے گا، انہوں نےسعودی ولی عہدکےترقیاتی ایجنڈےدو ہزار تیس کی تعریف کی اورامن واستحکام سے متعلق پاکستان کےکردار سے آگاہ کیا۔یاد رہے کہ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی بیان کرتے ہوئے پاکستان سے پھر ڈومور کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ساتھ ساتھ پاکستان کو دھمکیاں دے ڈالیں اور کہا اربوں ڈالر دیئے ہیں نتائج چاہئیں، پاکستان کو دہشت گردوں کےٹھکانوں کا صفایا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ کے الزامات اور نئی افغان پالیسی پر غور کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.