بے نظیر قتل سے میرا کوئی مفاد وابستہ نہیں ،پرویز مشرف

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف نہیں اور وہ صحت یابی کے بعد پاکستان آکر مقدمے کا سامنا کریں گے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے جاری بیان میں پرویز مشرف نے کہا کہ بینظیر قتل کیس میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے دیا گیا فیصلہ مشرف کے خلاف نہیں، میرا مقدمہ داخل دفتر ہے اور میں صحت یابی کے بعد پاکستان آکر مقدمے کا سامنا کروں گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ جائیداد کی قرقی کے حوالے سے عدالتی فیصلے کا میری قانونی ٹیم باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد میری یا میرے خاندان کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی،اپنے بیان میں سابق صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بینظیر قتل کیس میں امریکی لابیسٹ مارک سیگل کے بے معنی بیان کے علاوہ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں جبکہ میرے وکلائ اس بیان کو بھی عدالت میں بے معنی اور فضول ثابت کر چکے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ بینظیر قتل کیس میں انہیں سیاسی بنیادوں پر ملوث کیا گیا،قتل کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں نہ ہی بینظیر کے قتل سے میرا کوئی مفاد وابستہ تھا، میرے خلاف یہ مقدمہ مکمل بے بنیاد، جھوٹ اور خود ساختہ ہے جو محض سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا۔یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد خود کش حملہ اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا، اس حملے میں 20 دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔ قتل کے 9 سال 8 ماہ بعد راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اصغر خان نے گزشتہ ماہ 31 اگست کو کیس کا فیصلہ سنایا جس میں سی پی او خرم شہزاد اور ایس پی سعود عزیز کو 17,17 سال قید جبکہ پانچ ملزمان کو بری کر دیا گیا اس مقدمے میں پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیکر ان کی جائیداد قرقی کا حکم دیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.