انیس (19)سال بعد بھی کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ شروع نہ ہو سکا

جدت ویب ڈیسک :کراچی میں ٹریفک کی بد حالی اور بد انتظامی سے شہری نفسیاتی مسائل کا شکار اور سانس کی بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت سندھ، شہری انتظامیہ اور ٹریفک پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ کراچی کو دنیا کے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن ٹریفک سے متعلق آج تک کوئی جامعہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں کراچی سرکلر ریلوے عروج پر تھی۔ بعد ازاں 1990 کی دہائی میں کے سی آر کی تباہی کا آغاز ہوا۔ ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں نے کراچی سرکلر ریلوے سے سفر کرنا چھوڑ دیا۔ آخر کار 1994 میں کراچی سرکلر ریلوے کی زیادہ تر ٹرینیں خسارہ کی بنا پر بند کر دیں گئیں۔ 1994 سے 1999 تک لوپ لائن پر صرف ایک ٹرین چلتی تھی۔ 1999 میں کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ اب کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنا لیا گیا تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کی چپقلش کے باوجود یہ منصوبہ کب شروع ہوتا ہے ؟ ۔کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کیلئے انیس سو ننانوے سے لے کر اب تک بے شمار منصوبے بنائے گئے تاہم ان پر کام نہیں ہوا۔ دو ہزار پانچ میں جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کیلئے نرم شرائط پر قرض دینے پر آمادہ ہوئی تاہم منصوبے پر پھر بھی کام نہ ہوا اور اب تک التوا کا شکار ہے۔  اس کے علاوہ جائیکا نے سروے کیا اور فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی لیکن سندھ حکومت کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی کے باعث ٹریک پر موجود تجاوزات نے جائیکا کمپنی کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.