لیاقت آباد کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل

کرا چی جدت ویب ڈیسک کراچی کے علاقے لیاقت آباد کو پورشن مافیا نے کنٹریکٹ کے جنگل میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ عدالتی احکامات اور گراونڈ پلس ٹو سے زائد کی تعمیرات پر پابندی ہوا میں اڑا دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد میں عمارت گرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی متعدد واقعات میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔23جولائی 2009میں لیاقت آباد نمبر 6میں فردوس شاپنگ سنٹر کے قریب زیر تعمیر عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں 17افرادلقمہ اجل بنے اور درجن بھر زخمی ہوئے تھے۔5جنوری 2013 میں لیاقت آباد نمبر 5میں تین منزلہ عمارت منہدم ہوئی تھی تاہم خوش قسمتی سے اس سانحے میں جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔گذشتہ روز لیاقت آباد نمبر9 میں گرنے والی عمارت کے بارے میں علاقہ مکینوں نے بتایا کہ عمارت کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام ہو رہا تھاعمارت کی چوتھی منزل پر پینٹ ہاؤس تعمیر کیا جارہا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کیلئے آنے والے مزدوروں نے بھی عمارت کے خستہ حال ہونے کی نشاندہی کی تھی۔پے درپے سانحات کے باوجود لیاقت آباد نمبر 2 اور 3 میں ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔لیاقت نمبر 3میں محمد خالد نامی بلڈر تعمیرات کرارہا ہے۔اسی طرح لیاقت آباد نمبر 2 محمدی مسجد جھنڈا چوک کے قریب غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں۔رحمانیہ مسجد پلاٹ 2/435 اور پلاٹ نمبر 2/530 پر بھی تیزی سے غیرقانونی تعمیرات جاری ہے۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے سیلاب کو روکا جائے لیاقت آباد نمبر دو اور تین میں غیر قانونی تعمیرات پر افسران سے جواب طلبی کی جائے اور مزید حادثات کی روک تھام کے لئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی فوری اقدام اٹھائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.