نواز شریف اقتدار سے الگ ہوجائیں‘ بلاول بھٹو

لاہور جدت ویب ڈیسک پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے پیپلز پاٹی جنوبی پنجاب کی جانب سے ملتان، بہاولپور اور ڈیر ا غازی خان راجن پور ، مظفر گڑھ، بہاولنگر، لیہ میں گو نوا زگو ریلیوں کے انعقاد کو شروعات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بیشترکہ ہر پاکستانی نواز شریف کو ریڈ کارڈ دکھائے، انہیں اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے ۔یہ بات انہوں نے جنوبی پنجاب پارٹی کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ بلاول بھٹو زرداری نے تصور جمہوریت اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچانے والے نواز شریف اور اس کے ٹولے پر بیک وقت یلغار کرنے پر جنوبی پنجاب کے صدر اور انکی ٹیم میں شامل دیگر عہدیداران اور پارٹی کارکنان و رہنمائوں کی تعریف کی اور مزید کہا کہ نواز اینڈ کمپنی نے ثابت کر دیا کہ آمروں کی گود میں پلنے اور بڑھنے والے قوم و ملک کی خدمت کرنے کے بجائے فقط اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لیے سیاست میں آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوا ز شریف کے آگے فقط مستعفی ہونے کا راستہ ہے اور وہ ایک مالی جرائم و میگا کرپشن کو بچانے کے لیے ادارں سے تصادم جیسے حربوں میں اپنا وزن ڈالنے سے اجتناب برتیں۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ باعث تعجب نہیں کہ پاناما رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ہائوس آنے کے بعد شریف فیملی کے ہر فرد نے دوران 1991-92اور 1992-93 ہر سال اپنے اثاثوں میں مجموعی طور پر 16.6 فیصد اضافہ کیا ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف نے خود وعدہ کیا تھا کہ اگر کوئی ایک ثبوت اس کے خلاف آیا تو وہ مستعفی ہو جائے گا۔ لیکن اب ثبوتوں سے بھرا پورا ڈبا جو کہ پوری قوم کے سامنے موجود ہے۔ ظاہر ہونے کے بعد وہ اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ورکر زپورے ملک میں گو نواز گو کے نعرے لگانا اور ریلیاں نکالنابند نہیں کرینگے۔ جب تک پاکستان کی عوام نوازشریف کو مستعفی ہونے پر مجبور نہیں کر دیتی۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی اور عوام کو اپیل کی کہ وہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹر میں گو نواز گو ریلیوں کا انعقاد کریں اور قریب رخصت وزیر اعظم کو بتا دیں کہ 20کروڑ پاکستانی اس کیخلاف سراپا احتجاج ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ مزید وقت ضائع کیے بغیر اب اپنے گھر جائے۔مخدوم سید احمد محمود نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ حکومت اپنے خلاف ساز ش کا بے بنیاد واویلا کر رہی ہے حکمران جمہوری نظام کے خلاف خطرہ بنے ہوئے ہیں جو مرضی کر لیں پانامہ سے پیچھا نہیں چھڑا سکیں گے معاملہ عدالت میں ہے۔ اعلیٰ عدلیہ جو بھی فیصلہ کریگی اسے سب کو ماننا ہو گا نواز شریف کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ اپنی جگہ کوئی اور شخصیت لے آئیں جے آئی ٹی انکوائری رپورٹ کے بعد اب انکا بچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.