نیب آرڈنینس غلط‘احتساب بل آئین کے مطابق ہے‘وزیراعلیٰ سندھ

کراچی جدت ویب ڈیسک وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ احتساب بل آئین کے مطابق ہے ۔ قومی احتساب آرڈی ننس غلط تھا ۔ اس لیے ہم نے اسے منسوخ کیا ہے اور صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے لیے احتساب کا ایک موثر قانون بنایا ہے ۔ قومی احتساب بیورو نیب والے نعوذ باللہ خدا بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کرپشن کے بڑے اسکینڈلز میں کلین چٹ دی ۔ سندھ احتساب ایکٹ کو کسی نے عدالت میں چیلنج کرنا ہے تو وہ اپنا شوق پورا کر لے ۔ میں وفاق پر سب سے زیادہ یقین کرتا ہوں ۔ وہ بدھ کو سندھ احتساب بل 2017 پر بحث کے دوران خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر اعلی سندھ نے بل پر اپوزیشن کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا اور کہاکہ آئین کے آرٹیکل 142 ۔ بی کے تحت صوبے کرپشن کے خاتمے کے لیے قانون سازی کر سکتے ہیں ۔ سندھ احتساب بل پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ صوبے صرف ان امور پر قانون سازی نہیں کر سکتے ہیں ، جو وفاقی لیجسلیٹو لسٹ میں شامل ہیں ۔ کرپشن کا معاملہ اس لسٹ میں شامل نہیں ہے ۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 143 صوبوں کو قانون سازی سے نہیں روکتا ہے ۔ ہم فوجداری قوانین پر قانون سازی نہیں کر رہے ہیں ۔ اگرچہ فوجداری قوانین پر وفاق اور صوبے دونوں قانون سازی کر سکتے ہیں لیکن آئین کے تحت وفاقی قانون مقدم ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ وفاقی حکومت نے کرپشن کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے ہیں لہذا صوبے اس پر قانون سازی نہیں کر سکتے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کے کئی کونشنز پر دستخط کیے ہیں لیکن ان امور سے متعلق صوبوں نے آئین کے تحت قانون سازی کی ہے ۔ مثلا وفاقی حکومت نے لیبر سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونش پر دستخط کیے ہوئے ہیں لیکن اس حوالے سے صوبوں نے قانون سازی کی ہے ۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ احتساب کمیشن کے چیئرمین کی تقرری سندھ حکومت کا کام نہیں ہے ۔ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ، جس میں تین سرکاری ارکان سندھ اسمبلی اور اپوزیشن ارکان سندھ اسمبلی شامل ہوں گے ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کمیٹی کے 7 ویں رکن ہوں گے ۔ سندھ اسمبلی کے ارکان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے ۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں وفاق پر سب سے زیادہ یقین رکھتا ہوں ۔ سندھ نے وفاق کو کالعدم تنظیموں اور دہشت گردی کی تربیت دینے والے مدارس کے نام دیئے تو وفاقی حکومت نے اس پر جو ردعمل ظاہر کیا ، وہ بہت ہی افسوس ناک ہے ۔وفاقی حکومت نے ہم سے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں دہشت گردوں کی نشاندہی کرنے والے ۔ اپوزیشن والے مخالفت برائے مخالفت کے تحت جو منہ میں آتا ہے ، بول دیتے ہیں ۔ جب کوئی بات نہیں بن پاتی ہے تو وفاق اور دیگر باتیں شروع کر دی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہی قومی احتساب بیورو â نیبá ہے ، جس نے آر او پلانٹس کلین چٹ دے دی ہے ۔ ٹریکٹرز کی خریداری میں کرپشن کے بڑے اسکینڈل میں بھی نیب نے کلین چٹ دے دی ہے ۔ جن ٹریکٹرز پر سندھ حکومت نے سبسڈی دی ، وہی ٹریکٹرز پنجاب میں بھی رجسٹرڈ تھے ۔ نیب والے 10 ارب روپے وصول کرکے ڈھائی ارب روپے اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں ۔ نعوذ باللہ نیب والے خدا بنے ہوئے ہیں ۔ نیب کسی معاملے میں ہاتھ ڈال دے تو پھر کوئی محکمہ اس پر تحقیقات نہیں کر سکتا ۔ ٹریکٹر اسکینڈل میں نیب نے ہی کلین چٹ دے رکھی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے اگر سندھ احتساب ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنا شوق پورا کر لیں ۔ خیبر پختونخوا میں بھی احتساب ایکٹ بنا ہوا ہے اور پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس احتساب ایکٹ کی توثیق کر دی ہے ۔ قبل ازیں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ احتساب بل پر ہمارے تحفظات ہیں ۔ سندھ سے قومی احتساب آرڈی ننس کا خاتمہ کیا گیا ہے لیکن دیگر تین صوبوں میں یہ آرڈی ننس موجود ہے ۔ کرپشن کے خاتمے سے متعلق قانون سازی وفاقی حکومت کر سکتی ہے اور وفاقی قوانین موجو دہیں ۔ سندھ احتساب بل ان قوانین سے متصادم ہے ۔ 2010 سے لے کر اب تک قومی احتساب آرڈی ننس کے تحت بہت سے مقدمات کے فیصلے کیے گئے ہیں ۔ عدلیہ اسے موثر قانون سمجھتی ہے ۔ سندھ احتساب بل ایک متنازع قانون ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں احتساب کا الگ قانون بنا کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے کہ سندھ پاکستان سے الگ ہے ۔ باقی تین صوبوں میں ایسے قوانین نہیں ہیں ۔ ہم اس بل کو عدالت میں چیلنج کریں گے ۔ہم وفاق کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے فیصل علی سبزواری نے کہاکہ سندھ احتساب ایکٹ کرپشن کے خاتمے کی بجائے کرپشن میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد ” رشوت لے کر پھنس گیا ہے تو رشوت دے کر چھوٹ جا ” کا نظام نافذ ہو جائے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.