پولیس کی ملزمان سے پیسے لیکر مدعی کو مقدمہ میں پھنسانے کی دھمکی

ملیر جدت ویب ڈیسک شاہ لطیف پولیس کی ملیر کے سیاسی و سماجی رہنمائ کو حراساں کرنے کی کوشش، جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں،مدعی کی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس، کو رکمانڈر کراچی سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل ،واردات بھی مجھ سے ہوئی ہے اور من گھڑت مقدمات میں بھی ملوث کرنے کی دھمکیاں بھی مجھے دی جارہی ہیں،حاجی غنی پنہور، تفصیلات کے مطابق: ملیر کے علاقے حسن پنہور گوٹھ کے سربراہ اور سیاسی سماجی رہنمائ حاجی غنی پہنور سے ہونے والی ڈکیتی کے ملزمان کو شاہ لطیف تھانے کے اینویسٹیگیشن آفیسر جمیل جوکھیو نے لاکھوں روپے رشوت کے عیوض رہا کردیا تھا جس کی شکایت کرنے اور میڈیا پر خبریں چلانے کے بعد مدعی حاجی غنی پنہور کو منگھڑت مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اس سلسلے میں حاجی غنی پہنورنے بتایا کہ آئی او پولیس شاہ لطیف ٹائون جمیل جوکھیو نے ڈکیتی کے ملزمان کو لاکھوں روپے رشوت کے عیوض رہا کیا ہے ، جس کی ایف آئی آر بھی درج ہے، جس کی شکایت کرنے پر کہتا ہے کہ مجھے ایس پی انویسٹیگیشن ملک الطاف نے ملزمان چھوڑنے کا حکم دیا تھا ،تمہیں جو کرنا ہے کرلو ، میڈیا میں خبریں آنے کے بعد مجھے حراساں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ایس پی ملک الطاف سے مل کر میرے خلاف منگھڑت مقدمات بنوائیگا، حاجی غنی پہنور نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس اور کورکمانڈر سے اپیل کی ہے کہ مجھے جان و مال کا تحفظ دیتے ہوئے راشی پولیس افسر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.