احتساب نہیں استحصال ہورہا ہے ‘کوئی نہیں مانے گا‘ وزیر اعظم

اپر دیر /چترال جدت ویب ڈیسک وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ احتساب نہیں استحصال ہورہا ہے جسے پاکستان میں کوئی نہیں مانے گا ہر روز صبح اٹھ کر استعفے کی بھیک مانگنے والوں شرم کرو کیا تمہارے ووٹوں سےاقتدارمیں آئے ہیں ملک میں دھرنوں کا سرکس شروع کیا گیا،شاہراہ دستوریرغمال بنی رہی جمہوریت کی قبریں کھودی گئیں اب یہ تماشابند ہوجاناچاہیے میرے صبر کا امتحان نہ لیاجائے جے آئی ٹی کے ممبران فرشتوں کی طرح صادق اورامین بنے بیٹھے ہیں 49ہزارپائونڈ لوٹنے والوں کا سرعام احتساب ہونا چاہیے جمعرات کو وزیراعظم محمدنوازشریف نے 8.5 کلومیٹر طویل لواری ٹنل کاباضابطہ طورپرافتتاح کردیا وزیراعظم نے ٹنل کے داخلی راستے پر فیتہ کاٹ کراس تاریخی منصوبے کاافتتاح کیا۔ اس موقع پروزیراعظم کے ہمراہ گورنرخیبرپختونخوا اقبال ظفرجھگڑا ،وزیراعظم کے مشیراورپاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر امیرمقام ،ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی اورصوبائی جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ ن مرتضیٰ جاوید عباسی اور وزیراعظم کے مشیر برائے سول ایوی ایشن سردارمہتاب احمدعباسی ،مسلم لیگ ن کے رہنما پیرصابرشاہ اورنیشنل ہائی ویزاتھارٹی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ چیئرمین این ایچ اے شاہداشرف تارڑنے وزیراعظم کومذکورہ منصوبے کے بارے میں خصوصی بریفنگ دی اور بتایاکہ لواری ٹنل نوشہرہ مردان ملاکنڈ۔چکدرہ چترال نیشنل ہائی وے این 45 پرواقع ہے جس کی لمبائی 8.5کلومیٹر ہے اوریہ سال بھرچترال کوملک کے دیگرحصوں سے ملائے رکھے گی،لواری ٹنل منصوبے کے پی سی ون کے مطابق منصوبے پر 27 ارب روپے خرچ ہوئے اوراس منصوبے میں 8.5کلومیٹراور 1.9کلومیٹر کی دوسرنگوں کے علاوہ35کلومیٹررابطہ سڑکیںاور12پل بھی شامل ہیں۔ بریفنگ میں وزیراعظم کوبتایاگیاکہ لواری ٹنل منصوبہ یہاںکے عوام کادیرینہ مطالبہ تھاجس کوپاکستان مسلم لیگâنáکی حکومت نے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے اوریہ منصوبہ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے خیبرپختونخوا باالخصوص چترال وملاکنڈ ڈویژن کیلئے تحفہ ہے جس کی بدولت چترالی عوام کاملک کے دیگرحصوں سے زمینی رابطہ پورا سال بحال رہے گا۔بریفنگ کے مطابق منصوبے سے علاقے میں اقتصادی وتجارتی سرگرمیوںکے فروغ ،مقامی افرادکیلئے روزگارکے مواقع ،سیاحت کے فروغ اورمسافروں کووقت کی ضیاع سے بچنے میںمددملی گی۔رپور ٹ مطابق اس منصوبے کے پی سی ون کی لاگت تقریباً 27 ارب روپے ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چار سال قبل اقتدار سنبھالنے پر اس منصوبے کی طرف خصوصی توجہ دی اور اس مشکل منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا گیا۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ لواری ٹنل منصونے کی تکمیل پر بہت خوشی ہے، چترال کو لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے مقام پر لائیں گے۔انہوںنے کہاکہ یہاں ہماری حکومت نہیں یہاں اْن کی حکومت ہے جو انتخابات سے پہلے کہتے تھے کہ نیا پاکستان بنائیں گے لیکن خیبر پختونخوا میں بھی ہم ہی کام کررہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کا نیا پاکستان اور نیا خیبرپختونخوا کہیں دکھائی نہیں دیتا اس موقع پر وزیراعظم نے چک درا سے چترال تک موٹروے کی طرز پر بہترین سڑک کے قیام کی خواہش بھی ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جگہ جگہ بجلی کے پلانٹس ہم لگارہے ہیں ¾ ترقیاتی کام ہم کررہے ہیں، چترال میں خواتین کی یونیورسٹی بھی ہم بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ چترال پورے پاکستان سے الگ تھلگ تھا اور سردیوں میں کئی مہینوں تک چترال کا رابطہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے منقطع رہتا تھا۔انہوںنے کہاکہ اس ٹنل کی تعمیر کا اعلان 1974 میں ہوا تاہم وہ صرف کاغذ کی حد تک محدود تھا، اگر اْسی وقت تعمیر شروع ہوجاتی تو یہ 1980 تک مکمل ہوجاتا، اتنی انسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں اور چترال پاکستان سے الگ نہ رہتا۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ وہ بتائیں ‘2017 کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہتر ہے یا نہیں؟۔وزیر اعظم نوازشریف کے احتساب کی باتیں ہورہی ہیں جو اندھیرے ختم کررہاہے،جے آئی ٹی کے ممبران فرشتوں کی طرح صادق اورامین بنے بیٹھے ہیں،جے آئی ٹی اورپی ٹی آئی تمہارااحتساب کوئی نہیں مانے گا۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ اپنی عزت پیاری ہے،ہم پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ¾خودمجھے علم نہیں کس چیز کا احتساب ہورہاہے۔49ہزارپائونڈ لوٹنے والوں کا سرعام احتساب ہونا چاہیے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ نئے پاکستان کانعرہ لگانےوالوں نے کچھ نہیں کیا ¾میں نے ان سے کہانیاپاکستان چھوڑو، نیا خیبرپختونخوا ہی بنالو،وہ یہ بھی نہ کرسکے ¾ نیاپختونخوابھی ہم ہی بنارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ 2013 اور 2017 کے پاکستان میں کتنا فرق ہے؟ ٹنل کی تعمیر سے چترال میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم نے چترال کوکراچی،لاہوراوراسلام آباد کے برابر لانا ہے ¾ پاور پروجیکٹ ہم بنارہے ہیں ¾چترال میں خواتین یونیورسٹی بھی ہم بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دھرنوں کا سرکس شروع کیا گیا،شاہراہ دستوریرغمال بنی رہی ¾جمہوریت کی قبریں کھودی گئیں ¾ پی ٹی وی ¾ وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ پر حملے ہوتے رہے لیکن ہم نے فتنہ و فساد کی قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔وزیراعظم نے کہاکہ آج کل ان کے سرکس پر پاناماکا بورڈ لگاہے، یہ کھیل تماشا بند ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کو عوام نے آزاد کشمیر میں تمہیں مسترد کر دیا ¾ گلگت بلتستان میں مسترد کر دیا ¾ بلدیاتی اور ضمنی انتخاب میں بھی ٹھکرایا، عوام انہیں 2018میں بھی ٹھکرائیں گے،استعفیٰ مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ترقی کے دشمن 2002 سے 2013 سمیت تمام انتخابات میں مسترد شدہ ہیں ¾ ملک و عوام کو ترقی سے محروم رکھنے والے سیاست کے قابل نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2013 میں جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو اْس وقت دنیا کہہ رہی تھی کہ ایک سال میں پاکستان دیوالیہ ہوجائےگا ¾ پاکستان کو ناکام ریاست قرار دیا جاتا تھا، دہشت گردی عروج پر تھی ملک اندھیروں میں تھا اور پاکستان میں اقتصادی بدحالی عروج پر تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.