شفاف انتخابات کیلئے تحریک انصاف کے 4مطالبات

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف نے شفاف انتخابات کیلئے 4مطالبات پیش کر دئیے۔ چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ازسر نو تشکیل ، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق اور بائیومیٹرک سسٹم اور نگران حکومت کی تشکیل پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے ،اس کے بغیر ملک میں شفاف انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس میںحکومت کے سامنے 4 مطالبات رکھتے ہوئے کہا چار مطالبات کے بغیر ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔موجودہ الیکشن کمیشن کے نیچے نئے انتخابات قبول نہیں ،جب تک الیکشن کمیشن کی تشکیل نو نہیں کی جاتی شفاف انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ووٹ کا حق رکھتے ہیںان کی ووٹنگ کا یقینی بنایا جائے، شفاف ووٹنگ کے عمل کیلئے بائیو میٹرک سسٹم انتہائی ضروری ہے۔ اور یہ ہمارا درینہ مطالبہ ہے، اس کے علاوہ نگران حکومت کی تشکیل کےلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول پر پر بھارت کی جانب سے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ساری کابینہ وزیراعظم کی کرپشن کا دفاع کرنے میں لگی ہے ملک میں کیا ہو رہا ہے کسی کو فکر نہیں ،عمران خان نے کہا کہ تحقیقات کے آغاز پر وزیراعظم سے استعفیٰ مانگا تھا شریف خاندان کو صفائی کیلئے 5 موقع پر ملے سوا سال میں جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا ،حسین نواز اور مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈبھی جعلی ثابت ہو گئی ، شریف خاندان پوچھ رہا ہے کہ ان کا قصور کیا ہے جبکہ شریف خاندان کا بزنس ہی کرپشن ہے ۔کاروبار کی آڑ میں کرپشن کرنا ہی ان کا قصور ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا چودھری شوگر مل اور حدیبیہ پیپرمل بھی منی لانڈرنگ کیلئے بنائی گئی تھی کمپنیاں کرپشن کا پیسہ ری سائیکلنگ کرنے کیلئے بنائی گئیں،انہوں نے کہاپاناما آنے کے بعد شریف خاندان نے اپنی اثاثے تسلیم کئے لیکن منی ٹریل نہیں دی ، نوازشریف اپنی کرپشن بچانے میں لگے ہیں اب بھی وقت ہے کہ استعفیٰ دے دیں انہوں نے کہا پاناما میں نواز شریف نااہل ہو کر جدہ نہیں اڈیالہ جیل جائینگے۔ ن لیگی رہنما عابد شیر علی کے بیان پرعمران خان نے کہا کہ میرے والد صاحب 1946میں حکومت انڈیا کی سفارش پر برطانیہ سکالر شپ پر گئے تھے اور انہوں نے پڑھائی کے بعد تین سال سرکاری نوکری کرنی تھی، تاہم جب وہ ہندوستان واپس آ ئے تو پاکستان بن چکا تھا اور انہوں نے تین سال کام کیا اور اس وقت وہ نوکری چھوڑنا چاہتے تھے لیکن انجینئر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تین سال مزید کام کرنا پڑا اور پھر انہوں نے 1958میں سرکاری نوکری چھوڑ دی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.