سپریم کورٹ نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی‘عمران خان

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے، خوشخبری دے رہا ہوں کہ نئے پاکستان کا میچ ہم جیت چکے ہیں،شاہد خاقا ن عباسی اور شہباز شریف تیا ررہو آپ کے پیچھے آرہے ہیں ،

آصف زرداری اس کے بعد تمھاری باری ہے ،خیبرپختونخوا میں نواز شریف کا بڑا ساتھی فضل الرحمن ہے آپ کے پیچھے بھی ہم آئیں گے ان کا کہنا تھا کہ ہم احتساب کا نیا نظام لائیں گے، ، منی ٹریل میں میری ایک بات بھی سپریم کورٹ میں جھوٹ نکلی تو خود استعفا دے دونگا،،ہماری حکومت میں کوئی کرپشن کرے گا تو میں ذمہ دار ہوں گا، پاکستان میں گورننس کا نظام بہتر اور کرپشن کا خاتمہ کریں گے،خود نہ کبھی کسی کے آگے جھکا اور نہ ہی قوم کو جھکنے دوں گا ، نیا پاکستان فلاحی ریاست ہو گا جس میں لوگوں کو مفت تعلیم اور صحت ملے گی ، نئے پاکستان میں زکوۃ لینے والا کوئی نہیں ہو گا ، ہم پاکستان میں اتنا پیسہ لائیں گے کہ غریب ملکوں کی مدد کریں گے ، نیا پاکستان میں انصاف کا نظام ہو گا ، نئے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی ، ملک کے تمام گورنر ہائوسز پر میری نظر ہے ، لاہور کے گورنر ہائوس کی دیواریں گر اکرپبلک پارک بنایا جائے گا ،پشاور گورنر ہائوس کو عورتوں کا پارک بنا دیں گے ، کراچی گورنر ہائوس کو بھی عوامی جگہ ، نتھیا گلی اور مری کے گورنر ہائوسز کو ہوٹل بنا کر اس پیسے سے ملک کو سنواریں گے، ہم جمہوری ادارے مضبوط کریں گے ، نیب اور ایف بی آر مضبوط کریں گے ، آزادکشمیر کے عوام احتساب کےلئے اپنے وزیر اعظم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں انہوں نے گھٹیا بیان دیا ہے

 

۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکے روزاسلام آباد کے پریڈ گرائونڈ میں پانامہ لیکس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے یوم تشکرجلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عمرا ن خان نے کہاکہ عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ مجھے ایک بیدار قوم نظر آرہی ہے اور میں سب کا مشکور ہوں کہ صرف 48 گھنٹوں کے الٹی میٹم میں یہاں حاضر ہوئے۔مجھے خوشی ہے کہ ہماری قوم کوسمجھ آگئی ہے اس قوم میں شعورآگیاہے ،جواپنے مسائل سمجھ بیٹھے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ ہماری خواتین پاکستان کوعظیم قوم بنانے میں پیش پیش ہیں ،جس قوم کی خواتین جاگ جاتی ہیں اس قوم کوترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔انہوںنے کہاکہ میں سپریم کورٹ کے پانچ ججزاورجے آئی ٹی کے 6ارکان کوخراج تحسین پیش کرتاہوں ،مجھے معلوم ہے کہ جے آئی ٹی ممبران پرکتنادباؤہوگا،ان کواس مافیانے کتناپیسہ آفرکیاہوگا،مجھے تواربوں ڈالرآفرہوئے دباؤکے باوجودجے آئی ٹی ممبران نے کام کیا،جس پران کوسیلوٹ پیش کرتاہوں ۔انہوںنے کہاکہ یکم نومبرکوسپیریم کورٹ کے ججزنے ہمیں کہاکہ آپ سڑکوں نہ جائیں آپ عدالت آئیں جس پرہم سپریم کورٹ گئے ۔انہوںنے کہاکہ جب ہم سپریم کورٹ گئے تولوگوں میں مایوسی آئی کہ عدالتیں صرف کمزورکے خلاف فیصلے کرتی ہیں ،ہمیں سیاسی کزن طاہرالقادری نے بھی کہاکہ ہم نے بڑی غلطی کی کیوں کہ ہماری عدالتوں کی تاریخ تھی کہ طاقتورکے خلا ف فیصلے نہیں ہوتے ۔انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججزکوسلام پیش کرتاہوں کہ انہوںنے نئے پاکستان کی بنیادرکھ دی ،نیاپاکستان میٹرواورانڈرپاسزسے نہیں بنتاتھانیاپاکستان انصاف کی جیت سے بنناتھا،سپریم کورٹ کے ججوں نے قوم کوانصاف کی امیددی ،سپریم کورٹ کے ججزکی جتنی تعریف کی جائے کم ۔عمران خان نے کہاکہ بچپن سے میری ماں نے کہاکہ حق سچ اورانصاف کے لئے کھڑے ہوناہے ،نئے پاکستان کی بنیادعدل وانصاف پررکھی جانی تھی ۔انہوں نے کہاکہ میں نے آخری نبی ؐکی زندگی سے سیکھاانہوں نے دس سال کی جدوجہد کی لیکن دس سال میں صرف4000مسلمان ہوئے ،ان پرایساوقت بھی آیاکہ جب وہ طائف میں گئے توان پرپتھرمارے گئے لیکن انہوںنے ہمت نہیں ہاری ،میں نے نبی پاک ؐکی زندگی سے سیکھاہے کہ مشکلات سے سیکھاہے ۔عمران خان نے کہاکہ ابھی نئے پاکستان کامیچ ختم نہیں ہوا،الیکشن میں انشائ اللہ ہم نئے پاکستان کامیچ ضرورجیتیں گے

،نئے پاکستان میں ہم ایسی اصلاحات لیکرآئیںگے کہ زکوۃ دینے کوہمیں لوگ نہیں ملیںگے ،ہم اپنے ملک سے پیسہ باہربھیجیں گے ،پاکستان میں غربت کاخاتمہ ہوگا،پاکستان میں غریب ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا،ہم غریب ممالک کی مددکریں گے ،ہم نے اس ملک سے غربت ختم کرنی ہے ،تعلیم عام ہوگی ۔سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج ہوگا،خیبرپختونخواہ حکومت کومبارکباددیتاہوں کہ وہاں ساٹھ فیصدلوگوں کے پاس ہیلتھ کارڈہیں اورساڑھے پانچ لاکھ افرادہسپتالوں میں مفت علاج کراتے ہیں ،ہم پاکستان میں فرانس اورجرمنی جیسانظام تعلیم لائیںگے ۔خیبرپختونخواہ میں ڈیڑھ لاکھ بچے نجی سکولوں سے سرکاری ہسپتالوں میں آئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ نئے پاکستان میں احتساب کاعمل وزیراعظم اورحکومت سے شرو ع ہوگا،نیب قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پرہرشخص کوپکڑے گی ۔ہماری پارٹی میں کوئی کرپٹ نہیں ہوگاجوبھی ہماری پارٹی میں کرپشن کریگااس کامیں ذمہ دارہوں گا،کسی کی جرأت نہیں ہوگی کہ کرپشن کرے ،ہمارے پاکستان میں اتناپیسہ آئے گاکہ ملک کوقرضے لینے کی ضرورت نہیں ہوگی ،ہم اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے ملک میں جوقانون توڑے گااسے سزاملے گی ۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے دورمیں گورنرہاؤس گرائیں گے اورپبلک پارک بنائیں گے ،ٹیکس نہ دینے والے مگرمچھ بچ نہیں سکیں گے ،کرپشن پرہم قابوپائیں گے ،مضبوط ایف سی آربنائیںگے ،اس ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کرائیںگے ۔انہوںنے کہاکہ کے پی کے میں جتنی بیرونی سرمایہ کاری ہورہی ہے تاریخ میں اتنی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ،ہم پاکستان میں میرٹ کانظام لائیں گے ،کے پی کے میں بھرتیاں ایس ٹی ایس پرہورہی ہیں ،ہم سارے ملک میں این ٹی ایس نظام لائیںگے ۔انہوںنے کہاکہ ہم جمہوری ادارے مضبوط کریں گے ،ن لیگ والوں کوشہبازشریف کے علاوہ کچھ نہیں ملااگرن لیگ میں جمہوریت ہوتی تونوازشریف کے بعدپارٹی سے ایک خاندان کے بجائے کسی اورکووزیراعظم بنایاجاتا،یہ جمہوریت نہیں بادشاہت ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہت پیچھے رہ گئی اورجمہوریت آگے بڑھ گئی۔

 

عمران خان نے کہا کہ میری تربیت میری ماں شوکت خانم نے کی جو ایک سیاسی اور شعور رکھنے والی ماں تھی اور انھوں نے بچپن سے مجھے کہا کہ انصاف اور حق و سچ کے لیے کھڑے ہو اور ظلم کے سامنے نہیں جھکنا۔عمران خان نے کہاکہ شاہد خاقا ن عباسی اور شہباز شریف تیا ررہو آپ کے پیچھے آرہے ہیں ، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اس کے بعد تمھاری باری ہے ،خیبرپختونخوا میں نواز شریف کا بڑا ساتھی فضل الرحمٰن ہے آپ کے پیچھے بھی ہم آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جنگ شریف خاندان کے خلاف نہیں تھی بلکہ کرپشن کے خلاف تھی اور کرپشن کے خلاف ہم نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد پر تنقید کی گئی جس پر بے حد دکھ ہوا،جمائما خان 21برس کی عمر میں اسلام قبول کرکے پاکستان آئی اسے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،شوکت خانم ہسپتال کو بھی نہیں چھوڑا گیا ۔انہوںنے آزادکشمیرکے وزیراعظم کے بیان پرردعمل میں کہاکہ کشمیرکے لوگ وزیراعظم آزادکشمیرکے گھرکے سامنے مظاہرہ کریں ،آزادکشمیرکے وزیراعظم کوشرم آنی چاہئے کرپٹ آدمی کے لئے آزادکشمیرکے وزیراعظم نے بڑی بات کردی ،کشمیرکے عوام پاکستان کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں اوران کے وزیراعظم کیسی باتیں کررہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.