pakistan

تحریک انصاف اورایم کیوایم میں شادی سے پہلے طلاق؟؟؟

کراچی جدت ویب ڈیسک اپوزیشن لیڈرکی تبدیلی اور چیئرمین نیب کی نامزدگی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں تقسیم کا شکار ہوگئی۔پورے ملک کی طرح انتہائی اہم صوبے سندھ میں بھی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔سیاسی گہماگہمی عروج پر ہے۔قومی اسمبلی میں کراچی کی حکمران سیاسی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے ممبران کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے ۔جو اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی میں کلیدی کردار اداکرسکتی ہے۔لیکن پارلیمان میں پیپلزپارٹی کے بعد پارلیمان میں تیسری بڑی سیاسی قوت تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان میں فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے دونوں جماعتوں کا متفق ہونا ضروی ہے ۔جبکہ اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے حوالے سے تحریک انصاف کا ایم کیوایم پاکستان سے رابطہ بھی بے سود رہنے کا امکان ہے ۔ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے تحریک انصاف کے وفد نے شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز کا دورہ کیا تھا۔اور اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے ایم کیو ایم پاکستان سے ساتھ دینے کی درخواست کی تھی۔جس پر ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف کا خیر مقدم کرتے ہوئے مشاورت کیلئے وقت مانگا تھا۔جبکہ اب موجودہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی ایم کیو ایم پاکستان سے رابطہ کیا ہے ۔جس کے بعد صورتحال بدل چکی ہے۔اب ایم کیو ایم پاکستان مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ اپوزیشن لیڈر کے لئے تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی میں سے کس کا ساتھ دینا ہے ۔اس حوالے سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کی مضبوط ترین امیدوارتحریک انصاف دھڑے بندی کا شکار ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز کا دورہ کرنا تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات آشکار کرگیا ہے ۔تحریک انصاف سندھ اور کراچی کی نچلی سطح کی قیادت نے ایم کیو ایم پاکستان سے اتحاد کے فیصلے سمیت کراچی اور سندھ کے قائدین کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی اسدعمر کی کوششیں بے سودثابت ہوگئیں ہیں،ایم کیو ایم سے انتخابی اتحاد کی حمایت کرنے پرناراض سینئررہنمائوں نے اسد عمر کی بات ماننے سے انکارکردیا،مصالحتی اجلاس میں علی زیدی اور سردارعبدالعزیزکے درمیان تلخ کلامی نے کشیدگی میں اضافہ کردیااورپی ٹی آئی میں اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں ۔تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی خرم شیرزمان نے اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔تحریک انصاف جمہوری جماعت ہے ۔اور جمہوری جماعتوں میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں ۔ وسری جانب جماعت اسلامی سندھ کے ترجمان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے تحریک انصاف کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے ۔جس پر جماعت اسلامی نے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی ۔جماعت اسلامی سندھ اس فیصلے کو قبول کرے گی۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بطور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی کارکردگی تسلی بخش ہے ۔لیکن جماعت اسلامی اور اپوزیشن جماعتیں مل کر باہمی اتفاق سے جو فیصلہ کریں گی ۔اس پر عمل کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.