نوازشریف اورمریم نوازکے لین دین کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار جی آئی ٹی کو گذشتہ تین رہائیوں کے دوران نہ صرف حاصل کی گئی دولت کے ذرایع آمدن بلکہ جی آئی ٹی کو مطلوب دستاویزات بھی نہ دے سکے 2008ئ سے2017ئ تک مےاں نوازشرےف اورمرےم صفدر کے اکاؤنٹس مےں بالترتیب 1ارب41کروڑ64لاکھ50ہزار روپے اور 1ارب40لاکھ روپے کیٹرانزےکشن ریکارڈ کی گئینواز شریف نے حسین نواز اور ہل میٹل سعودی عرب سے1ارب 16کروڑ 56لاکھ 55ہزار 303روپے کے گفٹ وصول کئے جبکہ نواز شریف نے مریم صفدر کو 82کروڑ 27لاکھ 25ہزار 745روپے گفٹ کی مد میں دیئے ۔حسےن نوازشرےف نے سعودی عرب سے جنوری 2010ئ سے اگست2010ئ مےں13بار رقوم بھےج جس کی ٹوٹل مالےت44کروڑ97لاکھ 43ہزار روپے تھی جبکہ ہل مےٹل سعودی عرب سے اکتوبر 2013ئ سے مئی2017ئ مےں نوازشرےف کو73کروڑ 74لاکھ 54ہزار روپے کی رقم آئی کہ1993-94سے لے کر 2008-09تک اسحاق ڈار کے اثاثوں میں ہوشربا اضافہ ہوا اسی عرصہ کے دوران وہ بورڈ آف انوسمینٹ کے وزیر رہنے کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ بھی رہے۔ اسحاق ڈار کے اثاثے2013-14میں 25کروڑ 66لاکھ 93ہزار سے بڑھ کر 2015-16میں 46کروڑ 46لاکھ 22ہزار روپے کی سطح پر آ گئے ہیں دستیاب دستاویزات کے مطابق 2008ئ سے2017ئ تک مےاں نوازشرےف اورمرےم صفدر کے اکاؤنٹس میں 1ارب41کروڑ64لاکھ50ہزار روپے کی رقم آئی جبکہ مرےم صفدر کے اکاؤنٹس مےں9سالوں کے دوران1ارب40لاکھ روپے کی رقم آئی۔حسےن نوازشرےف نے سعودی عرب سے جنوری 2010ئ سے اگست2010ئ مےں13بار رقوم بھےجی گئی جس کی ٹوٹل مالےت44کروڑ97لاکھ 43ہزار روپے تھی۔2009-10ئ مےں104.7030ملےن روپے ترسےلات زر ےا گفٹ کی مد مےں دئےے گئے،2010-11ئ مےں112.163 ملےن روپے دئےے گئے،2012-13ئ مےں189.321 ملےن روپے اور2013-14ئ مےں24.596 ملےن روپے ترسےلات زر ےا گفٹ کی مد مےں نوازشرےف کو د ئےے گئے۔اسی طرح ہل مےٹل سعودی عرب سے کی جانب سے اکتوبر 2013ئ سے مئی2017ئ مےں نوازشرےف کو13بار ترسےلات زر کی مد مےں رقم بھےجی گئی جس کی مالےت73کروڑ 74لاکھ 54ہزار روپے ہے۔2013-14ئ مےں172.517ملےن،2014-15ئ مےں218.811ملےن،2015-16ئ مےں236.993ملےن اور2016-17ئ مےں 106.623ملےن روپے کی رقم نوازشرےف کو ترسےلات زر ےا گفٹ کی مد مےں دی گئی۔مرےم صفدر کی جانب سے2011-12ئ مےں2کروڑ48لاکھ51ہزار روپے کے گفٹ دئےے گئے۔اسی طرح نوازشرےف نے2010-11ئ مےں مرےم صفدر کو 31.700 ملےن روپے،2011-12ئ مےں43.624 ملےن روپے،2012-13ئ مےں35.868ملےن روپے،2013-14ئ مےں189.170ملےن روپے،2014-15ئ مےں310.535ملےن روپے،2015-16ئ مےں172.522ملےن روپے اور2016-17ئ مےں39.306 ملےن روپے کی رقم گفٹ اور ترسےلات زر کی مد مےں دی گئی۔مزید برآں ہل مےٹل کی جانب سے مرےم صفدر کو69.228ملےن روپے اور112.088ملےن روپے کی رقوم بھی دی گئیں۔مرےم صفدر کے اکاؤنٹس سے14انفرادی لوگوں کو رقوم بھےجی گئیں ےہ رقوم زمےن کی فروخت کی وجہ سے ہوئی، 2010مےں زمےن کی وےلےو زےرو فےصد سے بڑھ کر2016ئ مےں804.424ملےن رےکارڈ کی گئی۔مرےم صفدر نے2010-11ئ مےں 32.059 ملےن روپے کی زمےن کلےئر کی2011-12 ئ مےں 74.055ملےن روپے،2012-13ئ مےں104.111ملےن روپے،2013-14ئ مےں261.665ملےن روپے،2014-15ئ مےں540.215ملےن روپے اور2015-16ئ مےں804.424ملےن روپے کی زمےن ظاہر کی گئی۔حسےن نواز اور ہل مےٹل کی جانب سے نوازشرےف کو1ارب16کروڑ65لاکھ55ہزار303 روپے کے گفٹ دئےے گئے جبکہ نوازشرےف کی جانب سے مرےم صفدر کو82کروڑ 27لاکھ25ہزار745روپے کے گفٹ دئےے گئے۔حسےن نواز کی وےلتھ ٹےکس کی رےٹرن کے مطابق1991-92ئ مےں حسےن نواز شرےف کے ٹوٹل اثاثے 32لاکھ92ہزار26روپے تھے جس مےں سے17ہزار346روپے کے واجبات تھےں،1991-92ئ مےں حسےن نواز نے 31ہزار867 روپے ٹےکس ادا کےا۔1992-93ئ مےں حسےن نواز کے اثاثوںمےں30.4 ملےن روپے کا اضافہ ہوا،اثاثے32لاکھ سے 3کروڑ 36لاکھ تک پہنچ گئے جبکہ واجبات بھی7لاکھ71ہزار420 روپے ہوگئے۔1994-95ئ مےں ٹوٹل اثاثوں کی مالےت3کروڑ40لاکھ تک ہوگئی،1994-95ئ کی وےلتھ ٹےکس رےٹرن کے مطابق اثاثوں مےں کمی واقع ہوئی اور ےہ45 لاکھ کی سطح پر آگئے لےکن اےک سال کے وقفہ کے بعد اس مےں مزید اضافہ ہوگےا۔1998-99 مےں حسےن نواز کے اثاثوں کی مالےت6کروڑ تک پہنچ گئی۔2002-03ئ کی رےٹرن کے مطابق اثاثوں مےں1ملےن روپے کا اضافہ ہوا مگر ذرےعہ آمدن کا کوئی حوالہ نہےں دےا گےا۔حسےن نواز نے ذرےعہ آمدن کو چھپاےا ہے دستاویزات کے مطابق مریم صفدر کی انکم ٹیکس ریٹرن میں بھی ذرایع آمدن کو چھپانے کا انکشاف ہوا،1992-93 میں ذریعہ آمدن کے ذریعہ کے باوجود اثاثوں میں حرت انگیز اضافہ ہوا،1994-95میں مریم صفدر کے ٹوٹل اثاثے3کروڑ 14لاکھ کی سطح پر حرت انگیز طور پر پہنچ گئے جو 1999میں 3کروڑ 32لاکھ 79ہزار روپے کی سطح پر پہنچ گئے،2000-01کی انکم ٹیکس ریٹرن کے مطابق مریم صفدر کے اثاثے 3کروڑ 40لاکھ روپے کی سطح پر تھے، مریم نواز کے اثاثوں میں اضافہ نواز شریف کے ملنے والے گفٹ کی وجہ سے ہوا، مریم صفدر نے بی ایم ڈبلیو کار حاصل کی مگر اس کو 2013-14تک اپنے اثاثوں سے ڈیلیٹ نہیں، اسحاق ڈار کی ویلتھ ٹیکس ریٹرن میں بھی ذرائع آمدن کو چھپایا گیا، 1981-82میں اسحاق ڈار کے ٹوٹل اثاثے8لاکھ 26ہزار 771روپے مالیت کے تھے اس سال ڈار نے350روپے ٹیکس ادا کیا، اسحاق ڈار کے اثاثوں میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا اور یہ1988-89میں 14لاکھ 52ہزار 855روپے کی سطح پر پہنچ گئئے،1990-91میں ٹوٹل اثاثے 17لاکھ 95ہزار سے بڑھ کر 1994-95میں87لاکھ روپے تک پہنچ گئے جبکہ ریٹرن کے مطابق 2000میں اسحاق ڈار کے اثاثوں کی مالیت97لاکھ 73ہزار روپے کی سطح پر تھی، اس سال اسحاق ڈار نے 99ہزار 177روپے کا ٹیکس ادا کیا، 2001-02ئ میں اثاثوں کی مالیت 6کروڑ 92لاکھ 25ہزار تک پہنچ گئی، اس طرح 2013-14میں وزیر خزانہ بننے کے بعد اثاثوں میں ہوشربا اضافہ ہوا، 2013-14میں اثاثے 25کروڑ 66لاکھ 93ہزار سے بڑھ کر 2015-16میں 46کروڑ 46لاکھ 22ہزار روپے کی سطح پر کر گئے ہیں، جی آئی ٹی کی جانب سے ریٹرن کے تجزیہ میں بتایا گیا کہ1993-94کے مقابلے میں 2008-09تک اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بہت اضافہ ہوا جو کہ 2016تک جاری ہے، اسحاق ڈار نے2008میں اپنے بیٹے کو 586.93ملین روپے کا قرضہ دیا، اسحاق ڈار نے نہ صرف ذرائع آمدن چھپائے بلکہ اپنی جائیداد مس ڈکلیر بھی کی، وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی ریٹرن میں بھی ذرائع آمدن چھپاننے کا انکشاف ہوا،34لاکھ روپے کی رقم کہاں سے آئی کوئی پتہ نہیں لگ سکا، جبکہ 63لاکھ روپے کی پراپرٹی کو بھی ڈکلیئر نہیں کیا گیا، 1985-86میں 7لاکھ 47ہزار اثاثوں کی مالیت کی حامل کلثوم نواز کے اثاثے 2015-16میں2کروڑ 12ہزار کی سطح پر پہنچ گئے، مزید براں کلثوم نواز کو حسین نواز کی جانب سے 1.3ملین ۔۔۔۔۔۔ کی جانب سے 0.6ملین روپے کے گفٹ دیئے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.