آف شور کمپنیاں گلے پڑ گئیں پاناما میں نام آنیوالے 436 پاکستانیوں کیخلاف مقدمہ شروع

جدت ویب ڈیسک :پاناما آف شور کمپنیوں کے 436 پاکستانیوں میں سے 190 مالکان کا کراچی، 120 لاہور جبکہ 91 کا تعلق اسلام آباد سے ہے ۔ شریف فیملی، سیف اللہ خان فیملی، محترمہ بے نظیر بھٹو اور رحمان ملک سمیت دیگر سیاسی و کارباری شخصیات کا نام فہرست میں شامل ہے ۔ پاناما معاملے میں شریف فیملی کے بعد اب سپریم کورٹ میں دیگر 436 افراد کے خلاف تحقیقات کا معاملہ بھی زیرسماعت ہے۔ پانامہ آف شور کمپنیوں کے پاکستانی مالکان میں اکثریت کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 190 افراد آف شور کمپنیوں کی ملکیت رکھتے ہیں ۔ لاہور کے 120 ، اسلام آباد کے 91، چناب نگر کے 07، گوجرانوالہ کے 09 اور فیصل آباد ، پشاور کے چار چارافراد نے آف شور کمپنیوں بنائیں ۔ شریف فیملی سمیت سیف اللہ خان فیملی، محترمہ بے نظیر بھٹو ، سابق وزیر داخلہ رحمان ملک، جسٹس فرخ قیوم ، جسٹس ملک قیوم اور مرزا مسرور احمد سمیت دیگر کاروباری و سیاسی شخصیات کا نام پاناما کمپنیوں کے مالکان کی فہرست میں شامل ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے سراج الحق اور طارق اسد کی درخواستوں کی سماعت کی ۔ درخواست گزار طارق اسد نے استدعا کی کہ کرپشن کرکے آف شور کمپنیاں بنانے والوں کےخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ نوازشریف تو انجام کو پہنچ چکے ۔ اب باقی کرپٹ افراد بھی پکڑے جانے چاہئیں۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ لیڈرز کے دامن پر کرپشن کا دھبہ نہیں ہوناچاہئے ۔ بدعنونی کےخلاف مہم جاری رکھیں گےجسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ کارروائی تو سب کے خلاف ہونی چاہیے لیکن ایسے افراد کا تعین کون کریگا؟ ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا مقدمہ ظاہر آمدن سے زائد اثاثے بنانے والے افراد کےخلاف کارروائی کےلئے ہے؟ ۔ اگر ایسا ہے تو آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کرنا نیب کا کام ہے عدالت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ سب کچھ آج ہی کے دن نہ مانگیں ۔ مقدمے کا فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.