Maryam Nawaz, Hussain Nawaz, Hussain Nawaz Sharif, Hassan Nawaz, Asma Nawaz Sharif

عوام نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا‘ نوازشریف

راولپنڈی جدت ویب ڈیسک سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ راولپنڈی کے عوام اب بدل چکے ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں راولپنڈی ان کا شہر ہے ،اتنی محبت پہلے کبھی نہیں ملی راولپنڈی نواز شریف اور ن لیگ کا شہر ہے۔ کمیٹی چوک پر خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کو ایک منٹ میں ختم کیا گیا مجھے کس جرم کی سزا دی گئی تنخواہ نہ لینے پر مجھے نا اہل کیا گیاتنخواہ لی ہوتی تو ڈکلیئر کر لیتا۔ پنڈی کے عوام سے پوچھتا ہوں کیا میرے خلاف فیصلے کو دل سے قبول کر تے ہیں پاکستان کے عوام نے فیصلے کو دل سے قبو ل نہیں کیامیں نے خلوص کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ، چار سالوں میں لوڈشیڈنگ کو تقریبا ختم کیا پہلی بار گھر بھیجا دوسری بار ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ میرے ساتھ یہ پہلی بار نہیں ہواحکومت کی لالچ نہیں چاہتا ہوں یہ قوم دنیا کی بہترین قوم بن جائیں، وزیر اعظم کو گھر نہ بھیجا ہوتا تو ملک میں بے روزگاری ختم ہوجاتی اپنے ملک کو بدلنا ہے عوام کے ووٹوں کی عزت کروانی ہے، ملک میں کسی وزیر اعظم نے مدت پوری نہیں کی،وزیر اعظم نے خلاف سازشیں ہوتی رہیںآج وہ مولوی صاحب پھر آگئے ہیں کون ہیں وہ کہاں سے آجاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مجھے تیسری بار حکومت سے نکالا گیا، وزرائے اعظم کیخلاف سازشیں ہوتی رہیں ‘ کسی کو گھر ‘کسی کو جیل بھیجا گیا‘کسی کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں‘ میں نے کونسی کرپشن کی ہے‘ ،ہم نے اسٹاک مارکیٹ کو بلندیوں پر پہنچایا‘ لوڈشیڈنگ کافی حد تک ختم کردی تھی ‘آج پاکستان پھر پستی کی طرف جارہاہے‘ عمران خان اور طاہر القادری ملک کیخلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں‘ میں نے پورے پاکستان میں ایسی محبت کہیں نہیں دیکھی پنڈی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جوکہتے ہیں کہ یہ ان کا شہرہے راولپنڈی میرا شہرہے یہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے پاکستان کی عوام کی عدالت فیصلہ دے رہی ہے ،نوازشریف یہ عوام کے ووٹوں کی توہین ہے یا نہیں؟ کیافیصلہ سنایا کہ میں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی عوام نے نوازشریف کے خلاف فیصلہ قبول نہیں کیا 4سالوں میں لوڈشیڈنگ کوتقریباًختم کردیا ہے ،پاکستان سے دہشت گردی کوختم کیا ہے پاکستان ترقی کی بلندی پرجارہا ہے پہلی دفعہ بھی مجھے ڈھائی سال بعدگھربھیج دیاگیا تنخواہ نہ لینے پرمجھے نااہل کیا گیا مجھے 7سال کی جلاوطنی دی گئی کب بدلے گا پاکستان؟سابق وزیراعظم نوازشریف 70سال سے پاکستان کے ساتھ یہ ہی ہوتارہا ہے کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی ایوریج ڈیڑھ ڈیڑھ سال ایک ایک وزیراعظم کوملے کسی وزیراعظم کوپھانسی دی گئی کسی کوہتھکڑی لگائی گئی مجھے حکومت کی کوئی لالچ نہیں عوام ووٹ دے اورکوئی چلتا کردے یہ مجھے منظورنہیں، ہمیں پاکستان کوبدلنا ہے پاکستان میں روزنت نئے کارخانے قائم کیے آج وہ مولوی صاحب پھرواپس آگئے ہیں،کون ہیں یہ،کہاں سے آجاتے ہیں اپنے ملک کوبدلنا ہے ،عوام کے مینڈیٹ کی عزت کرانی ہے پہلی بارگھربھیجا گیا دوسری بارہتھکڑی لگائی گئی ہمیں کام کرنے نہیں دیا گیا ایک اس عدالت نے فیصلہ کیا تھا ایک عوام کی عدالت نے فیصلہ کیا ہے الحمد اللہ محب وطن پاکستانی ہوںاپنے وطن سے محبت کرتا ہوں ،اس ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہاہے جو کام کئے وہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ہیںمجھ سے وعدہ کرو کہ اپنے مینڈیٹ کا احترام کروائیںگے آپ نے اپنے حقوق کا تحفظ نہیں کیا تو اسی طرح چھینے جاتے رہیں گے ججز نے کہا نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں۔ ایک اس عدالت نے فیصلہ کیا تھا ایک عوام کی عدالت نے فیصلہ کیا ہے وعدہ کرواپنے وزیراعظم کی اس طرح تذلیل نہیں ہونے دوگے مجھ سے وعدہ کروکہ اپنے مینڈیٹ کااحترام کراؤگے مجھے ہائی جیکربنادیاہتھکڑیاں لگاکراٹک جیل بھیج دیاگیایہ مولاناپاکستان میں تباہی وبربادی پھیلانے آجاتے ہیں اپنے گھرجارہاہوں،ہرگزیہ نہیں چاہتاکہ آپ مجھے بحال کرائیںایک محب وطن انسان اورباوفاپاکستانی ہوں یہ بات توتاریخ کیلیے چھوڑتاہوں کہ کس بات پروزیراعظم کوفارغ کردیاگیا صبح 11 بجے کچہری چوک سے لاہور کا سفر شروع کریں گے دوسری جانب نا اہل نواز شریف کی لاہور روانگی کیلئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال۔ سکیورٹی رسک کے نام پر مری روڈ کی رابطہ سڑکیں سیل، انتظامیہ اور پولیس نے دکانیں اور کاروبار بند کرا دیئے ۔ میٹرو بس سروس بھی معطل، لوگوں کو کام کاج پر جانے میں مشکلات، تاجروں اور عوام کاشدید احتجاج۔وفاقی اور پنجاب حکومت کی طرف سے نا اہل وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور روانگی کے موقع پر سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا۔جہاں جڑواں شہروں میں نوازشریف کے حق میں نعروں پر مشتمل بینر اور پوسٹرآویزاں کر دیئے وہیں سکیورٹی رسک کو بنیاد بناکرپنجاب ہاؤس سے فیض آباد انٹرچینج تک اور مری روڈ کو مکمل طور پر سیل کر دیا، ساتھ ہی میٹرو بس سروس معطل کر کے مری روڈ کی تمام رابطہ سڑکیں بھی بند کر رکھی ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ ریلی کے روٹ پر تمام دکانیں شاپنگ مال اور دوکانیں زبردستی بند کرا دی گئی ہیں۔حکومتی اقدامات کے سبب مری روڈ کے دونوں طرف کی آبادیوں کے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے اور لوگوں کو کام کاج اور دفاتر جانے کیلئے سفر دشوار ہو گیا اور کاروبار زندگی مکمل مکمل طور پر ٹھپ ہے جبکہ سڑکوں پر رکاوٹوں سے لوگ دفاتر اور بچے اسکول اور مریض اسپتالوں میں نہ پہنچ پانے پر پریشان ہیں۔ مشکلات کا شکار مقامی تاجروں اور شہریوں نے حکومتی اقدامات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص جسے سپریم کورٹ نے نا اہل قراردیا اس کی وجہ سے ہم سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں اور کچھ پتہ نہیں کہ کب اپنی منزل پر پہنچیں۔راولپنڈی کے شہری پریشان ہیں کہ صورتحال کب معمول پر آئے گی۔ عوام اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ کوئی ناگہانی حادثہ پیش آ گیا تو ان کا کیا بنے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.