امریکہ کی جانب سے 75 افراد کی لسٹ دی گئی ، جس میں کوئی پاکستانی شامل نہیں

جدت ویب ڈیسک :وزیرخارجہ خواجہ آصف نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کو وائسرائے بلکل نہیں مانتے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی پر مشرف کی طرح ڈھیر نہیں ہوئے بلکہ اونچے قد کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔ وزیرخارجہ کا کہناتھا کہ ماضی میں اگر ہم نام نہاد جہاد اور پراکسی وار کا حصہ نہ ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔وزیرخارجہ کا کہناتھا کہ پاکستانی قوم ایک خوددار قوم ہے۔ ہماری پاک فوج ،پولیس اور عوام نے قربانیاں دی ہیں ۔ ہشتگردی کے خلاف پوری قوم متفق ہے ۔ ہمارا اقتدار امریکہ کی مرہون منت نہیں بلکہ عوام کے مرہون منت ہے ۔ گزشتہ سوا دو ماہ کے دوران امریکہ کے کسی دباو میں نہیں آئے۔ پہلی بار ملک کے تمام ادارے ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر بات کر رہے ہیں۔ سویلین اور فوجی قیادت دونوں متحد ہیں۔ وزیرخارجہ نے ایوان کوبتایا کہ امریکی حکام نے نہ حافظ سعید کا نام لیا اور نہ ہی اس حوالے سے بات کی ہے البتہ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے ضرور بات ہوئی۔ امریکہ کی جانب سے 75 افراد کی لسٹ دی گئی ہے ۔جس میں کوئی پاکستانی شامل نہیںانھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہمسایوں کی مدد ضرور کریں گے مگر پراکسی نہیں بنیں گے ۔ افغانستان میں امن کے بعد ہی پاکستان میں دیر پا امن قائم ہو سکتا ہے۔ افغانستان ہندوستان کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات اور امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے سینیٹ میں وزیرخارجہ خواجہ آصف نے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی فوجی حکومتوں اور نام نہاد افغان جہاد میں کیے گئے سمجھوتوں کے نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں۔نائن الیون کے بعد ہم نے اپنے بندے بیچے۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے۔آج ہم کسی قسم کا سمجھوتہ کر رہے ہیں نہ کسی قسم کا پریشر برادشت کر رہے ہیں حالیہ دنوں میں امریکہ گئے مگر پرویز مشرف کی طرح قومی مفاد کا سودا نہیں کیا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ آج بھی پورے قد سے کھڑے ہیں قوم کی دعائیں ساتھ ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد پر معمول کا استقبال کیا گیا۔ وزیرخارجہ کا کہناتھاکہ وہ ذاتی طور پر ڈرون حملوں کے حق میں نہیں۔ پچھلے دنوں میں جو ڈرون حملے ہوئے وہ سرحد پر ہوئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کی صورتحال پر پچھلے تین چار سال میں فرق پڑا ہے۔ آج سے 4 سال پہلے ہر دوسرے تیسرے دن دھماکہ ہوتا تھا۔ آج دہشتگردی پر قابو پایا گیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.