بھارت سندھ طاس معاہدے کے بنیادی اصولوں سے منحرف, ٹال مٹول سےکام نہیں چلے گا

جدت ویب ڈیسک :وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے بنیادی اصولوں سے منحرف ہو رہا ہے۔ خطہ میں امن اور استحکام کے لئے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری لازمی ہے۔ عالمی بینک بھارت سے آبی معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے پر تعمیری کردار ادا کرے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ سندھ طاس معاہدہ موجودہ شکل میں برقرار رہے اور اسے نہ چھیڑا جائے جب تک ہم پانی کو بہتر طریقوں سے استعمال کر کے ذخیرہ نہیں کریں گے۔ ہمیں بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کی حد مقرر کی گئی ہے۔ دونوں ملکوں میں پانی کی تقسیم کا مسئلہ سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کیا گیا۔ بھارت سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد میں تعاون نہیں کر رہا ہے۔ ہمیں بھارت کے آبی ذخائر کے ڈیزائن اور انفراسٹرکچر پر تحفظات ہیں کیونکہ بھارت معاہدے میں وضع کئے گئے ڈیزائن اور طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل میں پانی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ آج کے دور میں تحفظ آپ کا مسئلہ نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد آبی مسئلہ وجود میں آیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اگر سندھ طاس معاہدہ کے مطابق یہ منصوبے نہ بنائے گئے تو اس سے پاکستان آنے والے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں فرق آئے گا۔ ہم نے ایسے ڈیموں کے انفراسٹرکچر پر اعتراض کیا ہے۔ ہمیں امید ہے بھارت ہمارے اعتراضات کا بغور جائزہ لے گا اگر بھارت سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد نہیں کرتا تو پاکستان کی زراعت اور توانائی کی پیداوار پر بہت برا اثر پڑے گا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک ایشو ہے جو دو خودمختار ریاستوں کے درمیان ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے بھارت کے ساتھ پانی کے حوالے سے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے 140 ایم اے ایف پانی کا بڑا حصہ ہمارے اپنے ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہم بھارت یا کسی دوسرے ملک کے محتاج نہیں۔ جب دریائے سندھ پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو یہ ایک چھوٹی سی ندی کی مانند ہے اور یہ بڑا دریا نہیں ہے۔ جب پاکستان کے اندر سے مختلف دریا، برف اور گلیشیئر پگھلنے سے حاصل ہونے والا پانی اس میں شامل ہوتا ہے تو یہ بڑا دریا بن جاتا ہے جبکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی کا بڑا حصہ کشمیر کے ذریعے مغربی دریاؤں سے پاکستان آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 60 سال کے دوران جس طرح ہم نے پانی کا استعمال کیا ہے یہ مجرمانہ فعل ہے۔ ہم زراعت، صنعت، کمرشل اور گھریلو استعمال کے دوران سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس پانی کی لامحدود سپلائی موجود ہے۔ باہر سے ہی مسئلہ نہیں۔ اندر سے بھی مسئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال اندرونی طور پر در پیش مسئلہ بیرونی طور پر درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آبی ذخائر کی تعمیر، پانی کی بچت اور زراعت کے طریقوں کو تبدیل کر کے اور صنعتی طور پر استعمال ہونے والے پانی کی ٹریٹمنٹ کر کے ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دیامیر بھاشا ڈیم بنا رہی ہے۔ اس کے لئے زمین خریدی گئی ہے جبکہ منڈا ڈیم کی دوبارہ تعمیر کے لئے بھی حکومت کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پانی بچت کر کے ذخیرہ کرنا ہو گاان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت کے ساتھ پانی کے حوالے سے تمام تنازعات حل کرنے کے لئے تیار ہے۔ ہمارا موقف سندھ طاس معاہدہ کے عین مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی بینک بھارت کی جانب سے بنائے جائے۔ واشنگٹن گنگا پاور پراجیکٹ اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ عالمی بینک بطور دستخط کنندہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے حوالے سے تنازعات کو حل کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ اقدام خطہ میں امن کے قیام کے لئے معاون ثابت ہو گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.