کراچی میں فرقہ واریت کا بھارتی منصوبہ

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ فسادات کرانے کا بھارتی منصوبہ پکڑا گیا۔ شہر میں کرائم کا منصوبہ بنانے والے افراد کی نشاندہی ہوگئی، جلد گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے را نیٹ ورک کے 4 اہم کرداروں کا سراغ لگا لیا ہے۔ انیس الحسن، بوبی، سہیل بنگالی اور سلیم بلوچ نے حالات خراب کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ 50 سے 52 لڑکوں کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ فسادات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ہاتھوں گرفتار ملزموں نے دوران تفتیش بھارت خفیہ ایجنسی را کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا کراچی میں موجود ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے را کے 4 ایجنٹوں نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے تھے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق صفدر باقری شہر بھر میں 20 سے زائد سلیپر سیل کا انچارج ہے اور کینیڈا سے پاکستان میں را کی سرگرمیوں کے لیے احکامات دیتا ہے، جبکہ محمود صدیقی ملائیشیا سے را کا نیٹ ورک چلاتا ہے اور اس وقت محمود صدیقی بھارت میں را کے سیف ہائوس میں مقیم ہے۔ حساس اداروں کے ذرائع کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسی را نے کراچی سمیت سندھ بھر میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کرنا شروع کردیا۔4 اہم کردار دبئی اور جنوبی افریقہ میں بیٹھ کر بھارتی خفیہ ایجنسی کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایجنٹوں میں خوبرو دوشیزائیں بھی شامل ہیں جن کو اہم عہدوں پر فائز افراد کو اپنے جال میں پھنسا کر راز اگلوانے کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ ایجنٹوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انفارمر اور سوشل میڈیا میں اثر ورسوخ رکھنے والی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی اور اندرون سندھ کے بیشتر شہروں میں بلیک واٹر کی طرز پر اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کو بڑی بڑی رقوم دے کر مختلف کاروبار کرائے جارہے ہیں جبکہ ان کو آئندہ کے لیے انتہائی سہانے خواب بھی دکھائے گئے ہیں۔ افسر نے بتایا کہ اہم عہدوں پر بیٹھے افسران اور ایسے کلرکس جن کے پاس اہم دستاویزات ہوتے ہیں انہیں جال میں پھنسانے کے لیے خوبرو دوشیزائوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دوشیزائیں دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ان افسران اور اہلکاروں کو کراچی کے مضافاتی علاقوں میں قائم فارم ہائوسز میں ہونے والی شراب و شباب کی محفلوں میں بھی لے جارہی ہیں جہاں نشے کی حالت میں ان سے اہم راز بھی اگلوائے جارہے ہیں، جبکہ اعلی عہدوں پر فائز افسران کی نشے کی حالت میں دوشیزائوں کے ساتھ تصاویر اور فلمبندی کرکے انہیں سب کچھ کرنے کے لیے بلیک میل کیا جارہا ہے اور انکار کرنے والے کی تصاویر یا تیار کی گئی فلم شہر بھر میں پھیلانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں افسر کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مخبری کا کام کرنے والوں کو بھی رقوم دی جارہی ہیں کہ وہ نہ صرف راز اکٹھے کریں بلکہ وہاں کی اہم شخصیات کو کسی نہ کسی طرح شیشے میں اتاریں اور را کے لیے کام کرنے پر راضی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بھی بھارت نے اپنے ایجنٹ پھیلا دیے ہیں۔ ایجنٹوں کو انتہائی مہنگے موبائل فون دیے گئے ہیں جبکہ ان کے موبائل فون پر انٹرنیٹ کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے اور پابند کیا گیا ہے کہ مختلف ایبس، واٹس ایپ، وائبر، ایمو استعمال کریں۔ کسی بھی معلومات کے لیے سم نیٹ ورک کو کسی بھی طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.