اقوام متحدہ کے دفتر،غیر ملکی سفارتخانوں کو سنگین خطرات لاحق

کراچی سے البرٹ عروج بھٹی کی رپورٹ٭صوبائی حکومت کی چشم پوشی کے باعث کے ایم سی محکمہ لینڈ کے بدعنوان افسران نے کلفٹن کے حساس ترین علاقے میں تجاوزات قائم کروا کر سیکڑوں انسانی جانیں اور پوری دنیا میں ملک کا وقار دائو پر لگا دیا۔ بڑے پیمانے پر علاقے میں قائم چھپرا اور تخت ہوٹلوں اور دیگر تجاوزات پر مشکوک افراد نے ڈیرے ڈال لیے ۔ اس ضمن میں کلفٹن بلاک 4 میں واقع چیپل بیچ آرکیڈون، چیپل بیچ آرکیڈٹو، چیپل بیچ آرکیڈ تھری، پرائم بیچ اپارٹمنٹس، سی کیسل اپارٹمنٹس ون، سی کیسل اپارٹمنٹس ٹو، سمرینہ اپارٹمنٹس، ہوریزن وسٹا اور چیپل اوسٹیس کے مکینوں نے ’’جدت‘‘ کو بتایا کہ کے ایم سی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران نے علاقے میں چھپرا ہوٹل، تخت ہوٹل، چائے خانے اور بڑے پیمانے پرتجاوزات قائم کروا کر لاکھوں روپے بھتہ وصولی کررہے ہیں اور ان تجاوزات ،تختہ ہوٹلوں میں رات گئے تک اوباش اور جرائم پیشہ افراد موجود ہوتے ہیں اور باہم گفت و شنید کے دوران فحش گالیاں دیتے اور کئی بار آپس میں گالم گلوچ اور غل غپاڑہ کرتے ہیں ان منفی عناصر کے باعث کلفٹن کے اس پوش علاقے رہائشی ماحول برباد ہو کر رہ گیا ہے ۔ واضح رہے کہ کلفٹن کے اسی بلاک 4 میں برطانیہ، انڈونیشیا، چین، کویت اور اقوام متحدہ کے سفارت خانے اور اہم دفاتر بینکس کے علاوہ پاکستان کا سب سے بڑا شاپنگ مال بھی واقع ہے ۔ رہائشی علاقوں کے ساتھ ساتھ متعدد سفارت خانوں کو دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں لیکن وزیر بلدیات اور کے ایم سی لینڈ کے افسران نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے علاقے میں زبردست خوف و ہراس پایا جا تا ہے ۔ یاد رہے کہ علاقے کے عوام گزشتہ کئی سالوں سے اعلیٰ افسران کو درخواستیں دے کر تحفظ فراہم کرنے اور ان تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ کے ایم سی محکمہ انسداد تجاوزات کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر جدت کو بتایا کہ تجاوزات ایک اعلیٰ متعلقہ سیاسی شخصیت کے کہنے پر قائم کی گئی اس لئے کے ایم سی ان کے خلاف کارروائی سے معذور ہے ۔ علاقے کے عوام نے وزیر اعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ، گورنر سندھ محمدزبیر، وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز ،آئی جی سندھ سے کلفٹن کے حساس ترین بلاک 4 سے تجاوزات کا فوری خاتمہ کروانے اور علاقے کی سیکورٹی بڑھانے کی اپیل کی ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.