fake doctor

کراچی میں آٹھویں پاس ڈاکٹر نے ماں بچہ ماردیا

کراچی جدت ویب ڈیسک ملیر کے علاقے موئیدان میں آٹھ جماعت پاس پولیو ورکر ڈاکٹر بن بیٹھا ، گلے میں ادویات اور انجیکشن کا تھیلا ڈال کر ڈاکٹر آیا کی آوازیں دینے لگا ، غلط انجیکشن لگانے کے باعث دوران ڈلیوری زچگی بچہ ہلاک ، علاقہ مکینوں کا احتجاج ، گڈاپ پولیس چوکی ڈی ایچ او اور ٹی ایچ او نے تحریری شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہ کی ، ہمارے علاقے کو عطائی ڈاکٹروں کے حوالے کردیا گیا ہے ، اگر کارروائی نہ ہوئی تو عدالت جاؤں گا : عالم خان چھٹو۔ تفصیلات کے مطابق ؛ ملیر کے دور دراز پہاڑی علاقے موئیدان میں طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث 8جماعت پاس پولیو ورکر رضا محمد چھٹو ڈاکٹر بن بیٹھا ہے ، علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ عطائی ڈاکٹر گلے میں انجیکشن اور ادویات لیکر گلی گلی اور گوٹھ میں ڈاکٹر آیا ڈاکٹر آیا کی آوازین لگاتا ہے جس کے باعث مجبور اور غریب لوگ اس عطائی ڈاکٹر سے علاج کرانے پر مجبور ہیں ، گذشتہ روز مذکورہ عطائی ڈاکٹر نے علاقے کے سماجی کارکن عالم چھٹو کی زوجہ جنت کو دوران زچگی ایسا انجیکشن لگایا کہ وہ اس کی طبیعت شدید خراب ہوگئی اور دوران زچگی بچے کی ہلاکت ہوگئی ، ڈاکٹر تھیلا اور ادویات لیکر وہاں سے بھاگ نکلا ، عالم خان چھٹو نے مزید بتایا کہ اس نے رضا محمد عطائی داکٹر کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے ٹی ایچ او ملیر اورٹی ایچ او گڈاپ منیر پتافی سمیت گڈاپ پولیس چوکی انچارج صابو خان کوتحریری شکایات دیں ہیں لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ، انہوں نے کہا کہ وہ اب تک ڈلیوری کے چار کیس خراب کر چکا ہے لیکن لوگ غریب اور بے بس ہونے کے باعث مذکورہ ڈاکٹر کےخلاف کاررائی کرنے سے گریزہ ہیں ، اگر کارروائی نہ کی گئی تو وہ مذکورہ عطائی ڈاکٹر ڈی ایچ او اور ٹی ایچ او سمیت سیکریٹری صحت کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کریگا، دوسری جانب ڈی ایچ او ملیر ڈاکٹر سعید بلوچ نے رابطے کرنے پر بتایا کہ رضا محمد مڈل پاس پولیو ورکر ہے جس کے ڈاکٹر بننے اور انجیکشن کے ذریعے بچے کی ہلاکت کی تحقیقات کیلئے وہ خود موئیدان کے علاقے کا دورہ کریں گے ، حقائق معلوم کریں گے اگر الزام درست ثابت ہوا تو وہ اس کے خلاف کارروائی کریںگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.