Karachi

کے ڈی اے :مزدرو یونین ذاتی مراعات کے حصول میں مصروف

کراچی جدت ویب ڈیسک کے ڈی اے ایمپلائز یونین کے رہنمائوں نے ادارے میں سی بی اے مزدور یونین کی جانب سے ملازمین کے مسائل پر آواز اُٹھا نے کے بجائے انتظامیہ سے ذاتی مراعات کے حصول کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سی بی اے اپنے من پسند 150افراد کنٹریکٹ پر بھرتی کرانے کے باوجودمزید افراد کو بھرتی کرانے کے لئے انتظامیہ پر دبائو ڈال رہی ہے ان خیالات کا اظہار کے ڈی ایمپلائز یونین کے رہنمائ دلاور بھائی ،معروف اور عتیق نے کے ڈی اے کے افسران و ملازمین کے مطالبے کے حق میں سوک سینٹر میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا رہنمائوں نے مزید کہاکہ سی بی اے مزدور یونین ملازمین کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مراعات مثلاً انتظامیہ پر دبائو بڑھا کر اپنے رشتہ داروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی ،نئی گاڑیاں اور پیٹرول کے حصول میں مصروف ہے لہذا ہم مجبور ہوکر کے ڈی اے ملازمین کے مسائل پر آواز اُٹھا نے پر مجبور ہوئے ہیں ۔کے ڈی اے ایمپلائز یونین نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہاکہ کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے ہماری یونین کین پالیسی ہے کہ خواتین اور ایک سال سے زائد مدت کے کنٹریکٹ ملازمین کو بحال کیا جائے کیوں کہ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے ایسے ملازمین کی تعداد200کے قریب ہے جبکہ پچھلے ایک سال میں کنٹریکٹ ملازمین کا جمعہ بازار لگا یا گیا جس میں انتظامیہ کے ساتھ سی بی اے مزدور یونین برابر کی شریک ہے گزشتہ ایک سال کے دوران 800کنٹریکٹ ملازمین کو بھرتی کرکے ادارے کے مالی بوجھ کو مزید بڑھا دیا گیا جو کہ اداے کے ملازمین کےساتھ سراسر نا انصافی ہے رہنمائوں نے کہاکہ موجودہ سی بی اے یونین نے کے ڈی اے کے ملازمین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فنڈاور پینشن کی مد میں سندھ حکومت سے 60کروڑ روپے گرانٹ لائیں گے جس میں اب تک سی بی اے مکمل ناکام ہوچکی ہے رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ ڈی جی اے کے ڈی اے ملازمین کے فنڈ اور پینشن کی ادائیگی جلد ازجلد ممکن بنا ئیں ورک چارج ملازمین جن کو 3سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے ان کو مستقل کیا جائے اس سلسلے میں ڈی جی کے ڈی اے کی کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہیں اس کمیٹی میں سی بی ا ے مزدور یونین کے چیئر مین اور جنرل سیکریٹری کو بھی ان کی رضا مندی سے شامل کیا گیا لیکن اب سی بی اے ان ملازمین کو گھوسٹ ملازمین قرار دے رہی ہے جو کھلا تضاد ہے ۔ملازمین کے لئے پلاٹوں کی قراندازی کا خیر مقدم اور ریکارڈ روم کی منتقلی جو کہ ہماری یونین کا دیرینہ مطالبہ ہے ہم اس کی مکمل سپورٹ کرتے ہیں رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ سنیارٹی لسٹوں کے کام کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے اورتمام پرموشن ان لسٹوں کے مطابق سنیارٹی میرٹ پر کیا جائے ،گریڈ ایک سے 15تک ملازمین کو لیو انکشمنٹ فوری دیا جائے ۔افسران وملازمین کی ہر ماہ 10تاریخ تک ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت سے 17کروڑ اور تقریباًہر ماہ 13کروڑ کی کے ڈی اے کے اپنی ریکوری ہورہی ہے پھر تنخواہ میں تاخیر کیو ں جبکہ تنخواہ اور پینشن ملاکر کل رقم 24سے 25کروڑ بنتی ہے لیکن اسکے باوجود بھی گروپ انشورنس کی اسٹیٹ لائف کو ادائیگی ایک سال سے بند ہے جبکہ ہر ماہ ایمپلائز کی تنخواہ سے کٹوتی ہورہی ہے اور ڈائو میڈیکل ہسپتال کی ادائیگی بھی نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ملازمین کی میڈیکل سہولیات کی فراہمی بند کردی ہے۔کے ڈی اے ایمپلائز یونین نے سی بی اے مزدور یونین کی جانب سے ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس کی سنیارٹی پر اعتراض کے جواب میں موقف دیتے ہوئے کہاکہ غالباً 2000÷ئ میں گورنر سندھ کے احکامات پر اس وقت کے ڈی جی کے ڈی اے نے تقریباً15ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا تھا جن میں موجودپ ڈی جی کے ڈی اے بھی شامل تھے لیکن ہماری معلومات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ اور حکومت سندھ نے ان تمام ملازمین کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں بحال کردیا تھا لیکن آج اتنے سالوں بعد سی بی اے کا ڈی جی کے ڈی اے پر اعتراض سمجھ سے بالا تر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سی بی اے مزدور یونین کے ذمہ دران ناجائز مراعات کے حصو ل میں ناکامی کے بعد گڑے مردے اُٹھا رہی ہے سی بی اے آفس کے حوالے سے سی بی اے اور انتظامیہ کے درمیان جاری محاز آرائی پر موقف دیتے ہوئے کے ڈی اے ایمپلائز یونین کے رہنمائوں نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور دیا۔کے ڈی اے ایمپلائز یونین کے رہنمائوں نے کہاکہ ہم DGکے ڈی اے کے مثبت کاموں کو سراہیں گے لیکن جہاں انتظامیہ کی نااہلی اور زیادتی ہوگی ہم ملازمین کے حق میں اپنا بھر پور احتجاج ریکاڈ کرائیں گے کے ڈی اے ایمپلائز یونین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم غیر جانبدارانی اور آزاد پالیسی کو جاری رکھیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.