نواز شریف کی عدلیہ اورجے آئی ٹی پر شدید تنقید،نکالنا تھا تو اقامہ کا سہارا کیوں لیا ؟

جدت ویب ڈیسک :تفصیلات کے مطابق پنجاب ہاؤ س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صبح ہونے والے ناخوشگوار واقعے پر انہیں دکھ ہے‘ وہ آزادیٔ صحافت کے حامی ہیں۔ طلال چوہدری کی ذمہ داری لگائی ہے کہ واقعے کو دیکھیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔اسلام آباد: سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف نے ایک بارپھرعدالت کی توہین کا ارتکاب کردیا‘ ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بڑا فیصلہ آئے جو مولوی تمیز الدین سمیت تمام فیصلوں کو بہا کرلےجائے گا۔انہوں نےکہا کہ اہلیہ کے لیے دعائیں کرنے پر قوم کا شکر گزار ہوں ۔ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ بلا ضرورت ایک دن بھی باہر گزاروں گا۔ ماضی میں بھی ایسے ہی واقعات کا سامنا کیا ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالتی اورقانونی عمل سےفرارہماراطریقہ نہیں ہے‘ ہم آئین اورقانون کی عملداری پریقین رکھتےہیں اور مقدمات کاسامناکرتےہیں۔ قانون اورانصاف کےموجودہ عمل سےبھی گزررہاہوں‘ فرق صرف یہ ہےکہ ماضی میں آمریت تھی اورآج جمہوریت ہے۔آمریت میں سزاپانےکےبعدبھی مجھے2،2اپیلوں کاحق تھا لیکن آج مجھےاپیلوں کےحق سےبھی محروم کردیاگیا ہےنا اہل ہونے والے سابق وزیراعظم کے مطابق آج میں احتساب عدالت کےسامنےبھی پیش ہوگیاہوں‘ میراضمیراورمیرادامن صاف ہے۔ بظاہرٹارگٹ میراخاندان ہےلیکن سزاپورےملک کومل رہی ہے‘ آگےبڑھتےہوئےجمہوری پاکستان کوتماشابنادیاگیاہے۔ان کا کہنا تھا کہ بری امام کی نگری سے لے کر داتا کی نگری تک جی ٹی روڈ پر عوام کے سنائے فیصلے کی بری امام کی نگری سے داتا کی نگری تک گونج رہے ہیں۔ این اے 120 میں عوام نے ہمارے حق میں فیصلہ سنادیا‘ سنیہ 2018 میں ایک بڑا فیصلہ آئے گا جو مولوی تمیز الدین جیسے تمام فیصلوں بہا کرلے جائے گاانہوں نے کہا کہ وکلاءکنونشن میں کئی سوالات اٹھائےتھےایک کابھی جواب نہیں آیا‘ ایک وقت آئےگاجب یہی عدالت میری اپیل کودوبارہ سنےگی۔کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں انصاف اور قانون کے تقاضے پامال ہورہےہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.