لاہور:روڈ پر کھڑے ٹرک میں دھماکہ، درجنوں افراد زخمی

لاہورجدت ویب ڈیسک آؤٹ فال روڈ پر تاج کمپنی کے سامنے ورکشاپ کے گراؤنڈ میں کھڑے ٹرک میں زوردار دھماکہ، 24 افراد زخمی، ٹرک مکمل طور پر تباہ، ورکشاپ کی عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل، اردگرد کی دیگر عمارتیں بھی جزوی طور پر تباہ۔ریسکیو ذرائع کے مطابق، دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ بلو روڈ پر واقع ایک شادی ہال اور ملحقہ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم تاحال دھماکے کی نوعیت حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا ہے ۔ ابتدائی طور پر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکہ ٹرانسفارمر اڑنے سے ہوا۔ ٹرانسفارمر اڑنے کے بعد ہائی ٹینشن تار ٹکرا گئے جس سے قریبی کالج کی عمارت بھی متاثر ہوئی۔ تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ دھماکہ ایک ٹرانسفارمر کے قریب کھڑے سبزیوں اور پھلوں کے ٹرک میں بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔ یہ ٹرک ایک ورکشاپ کے سامنے پلاٹ میں کھڑا تھا جس میں کوڑا اٹھانے والی نجی کمپنی کے ٹرکوں سمیت متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ٹرک بھی موجود تھے ۔دھماکہ آؤٹ فال روڈ پر سگیاں پل کے قریب جس علاقے میں ہوا وہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے ۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں یہاں دیر سے پہنچیں جس کے باعث زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے جس ٹرک میں دھماکہ ہوا ہے وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے ۔ اس کے پرخچے اڑ گئے ہیں۔ دھماکے سے ورکشاپ کی عمارت مکمل طور پر اور ایک مقامی کالج کی عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی ہے اور کئی افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ دھماکے سے 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے ۔ پولیس تاحال میڈیا اور عوام کو جائے وقوعہ پر نہیں جانے دے رہی اور اس نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں دے گی۔زخمیوں کو میاں منشی ہسپتال اور میو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ۔ میاں منشی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور گھروں میں موجود تمام ڈاکٹروں کو بھی ہسپتال طلب کر لیا گیا ہے ۔ دھماکے کے بعد صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق میاں منشی ہسپتال پہنچے اور انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ خواجہ سلمان رفیق نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 24 زخمی ہسپتال لائے گئے تاہم ان کے علاج کے دوران بال بیرنگ وغیرہ لگنے کے آثار نہیں ملے جس کے بعد ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کا یہی خیال ہے کہ دھماکہ بارودی مواد کا نہیں تھا۔ ادھر صوبائی وزیر صحت بلال یاسین کے مطابق، 10 معمولی زخمیوں کو ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے ۔ادھر دھماکے کے بعد علاقے میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے ۔ دھماکے کی جگہ پر کئی فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے ۔ پولیس نے ارد گرد کے علاقوں بالخصوص افغان بستیوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور دو مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق، یہ ٹرک اس پلاٹ میں دو تین روز سے کھڑا تھا اور شہریوں نے پولیس کو مطلع بھی کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ایک لاوارث ٹرک یہاں موجود ہے ، اس کو یہاں سے ہٹایا جائے لیکن پولیس نے کسی کی ایک نہ سنی۔ وزیر صحت بلال یاسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یقینن دلایا کہ اگر پولیس کی جانب سے غفلت برتی گئی ہے تو اس معاملے کی تفتیش کی جائے گی۔دریں اثنائ، دھماکے کے بعد سے علاقے کو بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے اور سارا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے اور لیسکو حکام تاحال بجلی کی سپلائی بحال نہیں کر سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.