پاکستان ، افغان جنگ میں ’’قربانی کا بکرا‘‘ نہیں بے گا ، وزیراعظم

اقوام متحدہ جدت ویب ڈیسک پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کیلئے اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ مقرر کیا جائے، بین الاقوامی برادری صورتحال کو خطرناک ہونے سے بچانے کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے والے نہتے عوام پر مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کو دبانے کیلئے طاقت کا اندھا دھند اور بلا امتیاز استعمال کر رہا ہے، خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں معصوم کشمیری مارے اور زخمی کئے جا چکے ہیں۔ شارٹ گن پیلٹ سے بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں کشمیری اپنی بینائی سے محروم یا معذور ہو چکے ہیں۔ یہ اور اس طرح کے دیگر مظالم جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرہ میں آتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جنگ سے تباہ حال افغانستان میں امن کیلئے پاکستانی خواہش، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کیلئے کوششوں اور قربانیوں، مشرق وسطیٰ میں صورتحال، اقوام متحدہ میں اصلاحات، ماحولیاتی تبدیلی، پاکستان میں جمہوریت اور معاشی استحکام پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے ہمسایوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی پاکستانی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے جامع مذاکرات کی بحالی اور امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے اقدامات پر بات چیت کا خواہاں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کیلئے بھارت کو پاکستان کے خلاف ریاستی پشت پناہی سے کی جانے والی دہشت گردی بشمول ہماری مغربی سرحد کے پار سے کی جانے والی دہشت گردی اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی مہم سے اجتناب کرنا ہو گا۔ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک دنیابھر کے اعلیٰ سطحی وفود کو بتایا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کرنے اور جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے 7 لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ تاریخ میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی طرف سے تعینات کی جانے والی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کشمیری عوام بھارت کے تسلط سے آزاد ہونے کیلئے ایک تاریخی اور مقبول جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس کی صدارت پر میروسلیو لجکن کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے عوامی خدمت اور بین الاقوامی تعلقات کے طویل تجربے اور بین الاقوامی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کو درپیش سلامتی، ترقی اور گورننس کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کامیاب رہنمائی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کشمیر میں بھارتی جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پتہ چلانے اور اس کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے اور متاثرین کو انصاف اور ریلیف فراہم کرنے کیلئے انکوائری کمیشن بھجوائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنوں سے کشمیریوں پر حملوں اور نہتے شہریوں پر تشدد اور مظالم کا سلسلہ رکوائے۔ ریاستی پالیسی کے طور پر خواتین سے زیادتیوں کا سلسلہ بند کرایا جائے۔ میڈیا کا بلیک آئوٹ ختم کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں ڈریکونین ہنگامی قوانین ختم کئے جائیں اور تمام کشمیری سیاسی قیادت کو رہا کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پرفائر بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال جنوری سے اب تک بھارت فائر بندی کی 600 خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔ پاکستان نے اس صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن اگر لائن کنٹرول پر بھارت کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا ارتکاب کرے گایا پاکستان کے خلاف محدود جنگ کے ڈاکٹرین پر عمل پیرا ہو گا تو اسے مضبوط اور برابر کا جواب دیا جائے گا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو صورتحال کو خطرناک ہونے سے بچانے کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ پرامن اور فوری حل کیلئے اقدامات کرنا ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ امن عمل کو بحال کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ہم سلامتی کونسل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کشمیر پر خصوصی نمائندہ مقرر کریں جو سلامتی کونسل کی دیرینہ قراردادوں پر علدرآمد کروائے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کا واضح موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کی جنگ کو اپنی سرزمین پر لڑنے نہیں دے گا، انہوں نے کہا کہ ہم کسی ایسی ناکام حکمت عملی کی توثیق نہیں کر سکتے جو پاکستان اور افغانستان اور دیگر علاقائی ملکوں کے عوام کی تکالیف میں اضافہ اور اسے طویل کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں فوجی یا سیاسی تعطل کیلئے مورد الزام ٹھہرانا بالخصوص پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ میں بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کیلئے قربانی کا بکرا بننے کےلئے تیار نہیں ، طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں طالبان کے قابض وسیع علاقے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے حملے ضرور ہوتے ہیں لیکن یہ حملے زیادہ تر سرحد کے اس پار موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کیلئے پاکستان نے افغان حکومت اور اتحادی فورسز کو کہا ہے کہ وہ سرحد کو کنٹرول کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے اور نقل و حرکت کی نگرانی کیلئے پاکستان کی جاری کوششوں کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے غیر ملکی مداخلت سے دونوں ممالک کے عوام کو بہت نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کا کوئی اور خواہشمند نہیں تاہم افغانستان میں 16 سالہ جنگ کے بعد یہ بات واضح ہے کہ افغانستان میں امن کو جنگ جاری رکھ کر بحال نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی فریق ایک دوسرے پر فوجی حل نہیں لاگو نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغانستان میں فوری اور حقائق پر مبنی مقاصد میں افغانستان میں داعش، القاعدہ اور ان کے حمایتیوں کے خاتمے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے دہشت گردی کیخلاف اقدامات پر سول نہیں اٹھایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کی کاوشوں سے ہی القاعدہ کا خاتمہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوجی آپریشنوں سے پہاڑی علاقوں سے تمام عسکریت پسند گروپوں کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف بھاری قیمت چکائی ہے۔ 6500 فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سمیت 27 ہزار پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے عالمی مسئلے سے جامع طور پر نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی میں اہم نقائص کا ذکر کیا جس کی وجہ سے اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی ہوئی۔ انہوں نے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات محض غربت اور جہالت نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی وجوہات میں ناانصافی، جبر اور غیر ملکی مداخلت سمیت سیاسی اور دوسری محرومیوں پر انتہائی ردعمل بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کو ختم کئے بغیر دہشت گرد گروپوں کے بیانیے سے نمٹنا مشکل ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ایک مخالفانہ اور بڑھتی ہوئی عسکری قوت والے ہمسائے کا سامنا ہے اور پاکستان کیلئے قابل بھروسہ ڈیٹرننس کیلئے اپنی صلاحیت کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیار صرف اس لئے بنائے ہیں کیونکہ اس کے ہمسائے نے خطے میں ان ہتھیاروں کو متعارف کروایا ہے۔ ہمارے جوہری اثاثے جارحانہ دھمکیوں سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے پوری طرح سے موثر کنٹرول میں ہیں جن کا ماہرین نے اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کو غیر امتیازی بنیاد پر نیوکلیئر سپلائرز گروپ جیسے عالمی ایٹمی عدم پھیلائو انتظامات میں شامل کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان حالیہ تنائو یورپ کو ایک اور سرد جنگ میں دھکیل سکتا ہے جبکہ ایشیا میں امن اور خوشحالی کو جنوبی مشرقی اور مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی مزاحمت سے خطرہ ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شام، عراق ، یمن سمیت مشرق وسطیٰ میں ہر جگہ جنگ اور تشدد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عراق اور شام میں داعش کمزور ہوئی ہے لیکن مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں دہشت گردانہ تشدد پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے المیے کا اختتام ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اسرائیل کے غیر قانونی تسلط اور غیر قانونی بستیوں میں توسیع سے مقدس سرزمین پر تشدد پھیلتا نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسل پرستی اور مذہبی منافرت، اسلامو فوبیا اور زینوفوبیا میں ڈھل چکی ہے اور دنیا کی مختلف اقوام اور عوام کے مابین دیواریں اور نفسیاتی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی نہ صرف انسانیت کے تمام بنیادی اقدار سے متصادم ہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کیلئے بھی چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بیماریوں، ماحولیاتی تبدیلیوں، ایٹمی پھیلائو، دہشت گردی اور جبری بیدخلی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے امن، سلامتی، ترقی اور انتظام میں اقوام متحدہ کی اہلیت کو تقویت دینے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان اصلاحات کیلئے بھی پرعزم ہیں جن کے ذریعے سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندگی کا حامل، جمہوری اور جوابدہ بنایا جا سکے ناکہ یہ محض طاقتوروں کا کلب بن کر نہ رہ جائے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن برقرار رکھنے والے دستوں میں دنیا کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ ہم امن برقرار رکھنے کیلئے سب سے آگے رہیں گے اور اپنے سلامتی چیلنجوں کے باوجود اپنے پیشہ وارانہ اور تربیت یافتہ اہلکاروں کو اقوام متحدہ میں بھجوائیں گے۔ وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کو انسانیت کے مستقبل کیلئے ایک نیا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ پاکستان پیرس معاہدے کے اہداف کا ادراک رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس پر عمل اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ترقی پذیر ممالک کے بنیادی مقاصد میں شرح نمو اور ترقی شامل ہیں اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف تاریخ میں سب سے زیادہ حوصلہ مند سطح پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدرکے بیلٹ اور روڈ کے منصوبے سے مشترکہ ترقی کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ جنوبی ممالک کے مابین تعاون کا ایک بہترین ماڈل اور خوشحالی اور ترقی کی جانب ایک ٹھوس راستہ ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عالمی رہنمائوں کو بتایا کہ پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار سالوں کے دوران شاندار بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اقتصادی ترقی کیلئے مزید اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری، توانائی اور ٹرانسپورٹیشن سے لے کر کئی دوسرے شعبوں تک پھیلے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 207 ملین کی نوجوانوں پر مشتمل آبادی کے ساتھ پراعتماد ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی آمدن، کھپت اور پیداوار کو بروئے کار لاتے ہوئے اقتصادی حکمت عملی کے ذریعے خوشحالی کی جانب بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اہداف کے حصول کیلئے اپنے ملک کے اندر اور اپنی سرحدوں کے ارد گرد سلامتی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ریاستوں کے ساتھ برابری اور خود مختاری کی بنیاد پر اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور ہم دوستی اور تعاون کی تمام پیشکشوں پر مثبت طور پر آگے بڑھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.