بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل پر عدالت میں طوطے کی گواہی

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک امریکی ریاست مشی گن میں ایک شخص کے قتل کے مقدمے میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ ان کی اہلیہ نے مقتول کو پانچ بار گولی ماری اور اس واقعے کو بظاہر ایک طوطے نے دیکھا تھا۔برطانوی ٹی وی کے مطابق گلینہ ڈورم نے اپنے شوہر مارٹن کو 2015 میں اپنے پالتو طوطے کے سامنے گولی ماری تھی۔ اس سے قبل انھوں نے اسی گن سے خودکشی کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔مارٹن کی سابقہ بیوی کے مطابق طوطے نے مقتول کی آواز میں یہ نقل کرتے ہوئے کہا ڈونٹ شوٹ‘ گولی مت چلاؤ۔طوطے کا نام بڈ ہے جو افریقی نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کو عدالتی کارروائی میں شامل نہیں کیا گیا۔عدالت نے عدالتی کارروائی کے پہلے دن 49 سالہ گلینہ ڈورم کو فرسٹ ڈگری کیس میں مجرم قرار دیا ہے۔ انھیں اگلے ماہ سزا دی جائے گی۔ڈورم کی سابقہ بیوی کرسٹینا کیلر نے اب ان کے پالتو طوطے کو اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ طوطا قتل کے واقعے کی رات کی بات چیت کو دہراتا ہے۔ ان کے خیال میں اس دن آخری بات یہی ہوئی تھی کہ ’مت مارو۔‘ان کے والد نے مقامی میڈیا کو حادثے کے وقت بتایا کہ ’میرا ذاتی خیال ہے کہ اسے وہ یاد ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے ۔پراسیکیوٹر نے ابتدا میں طوطے کی جانب سے بولے جانے الفاظ کو عدالت میں قتل کے مقدمے میں بطور ثبوت پیش کیا جائے تاہم بعد میں ایسا نہیں کیا گیا۔پراسیکیوٹر کے مطابق طوطے کو عدالت میں لانا اور بطور گواہ مقدمے میں شامل کرنا درست نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.