نیشنل بینک کی ترسیلات زر کے مارکیٹ شیئر زمیں اضافہ

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کیلئے ترسیلات زر کی آج جتنی اہمیت ہے شاید ہی پہلے کبھی اتنی اہمیت رہی ہو گی ۔اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کی غرض سے جدوجہد کرنے والے برآمدکنندگان کیلئے گھریلو ترسیلات زر ہی اس اہم ترین کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔مالی سال 2017 کے دوران ترسیلات زر میں 3.08 فیصدکی کمی کے باوجود نیشنل بینک کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات نیشنل بینک آف پاکستان کے گروپ ہیڈ –گلوبل ہوم ریمی ٹینسز، ایس ایچ ارتضیٰ کاظمی نے بتائی ۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑی کامیابی نیشنل بینک آف پاکستان کی انتظامیہ کی گہری دلچسپی کے باعث ممکن ہوئی ہے جو اس نے بینک کے مجموعی کاروبار کو بہتربنانے میں ظاہر کی ہے ۔نیشنل بینک زرمبادلہ بھیجنے والے بینک صارفین کو اپنی 1400 سے زائد برانچوں اور 1,000 سے زائد ATM مشینوں پر مشتمل وسیع ترین آن لائن نیٹ ورک ،رقم ترسیل کرنے والے نئے بین الاقوامی اداروں (MSBs)کے ساتھ شراکت داری اور مقامی نیز بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنی پروڈکٹس کی مرتکز مارکیٹنگ کے ذریعے اعلیٰ ترین خدمات فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔گھریلو ترسیلات زرگزشتہ کئی برسوں سے معیشت کے استحکام کیلئے اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔پاکستان ریمیٹینس انیشیٹو (PRI) کی صورت میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خصوصی توجہ نے قانونی ذرائع سے پاکستان کیلئے ترسیلات زر کی آمدمیں اضافہ کیا ہے جن کی شرح 2017ء میں 19.30ار ب امریکی ڈالرز ہے جبکہ 2011ء میں یہ شرح 11.20ارب امریکی ڈالرز تھی۔ نیشنل بینک کو آسٹریلیا سے موصول ہونے والی ترسیلات زر میں، صرف جون 2017ء کے دوران،150 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اپریل-جون کی سہ ماہی کے دوران نیشنل بینک کی جانب سے چلائی گئی متعدد مارکیٹنگ کیمپینز کا نتیجہ میں حاصل ہواہے۔مارکیٹنگ کی ایک ایسی ہی مہم خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک میں(جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں)ممتاز MSB کے تعاون سے چلائی گئی جس سے ماہ بہ ماہ حجم میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سعودی عرب میں ایک اور ممتاز بینک کے ساتھ مل کر چلائی گئی مہم کی وجہ سے حجم میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ایسی کئی مہمات 2017 کی دوسری ششماہی میں چلائی جائیں گی۔نیشنل بینک آف پاکستان دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں/قونصل خانوں اورمنسٹری آف اوورسیز ایمپلائیمنٹ اینڈ ایچ آر ڈیولپمنٹ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے تاکہ موجودہ اورمستقبل کے تارکین وطن کو نیشنل بینک کی ترسیلات زر کی خدمات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاسکے ۔نیشنل بینک آف پاکستان نے ترسیلات زر کی قانونی ذرائع سے آمد کو فروغ دینے اور ہنڈی/حوالہ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو قانونی/ بینکاری چینل کے ذریعے پاکستان میں ترسیلات زر کے رسمی کاروبار کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے کلیدی عوامل ہیں۔نیشنل بینک کی جانب سے ترسیلات زر منتقل کرنے والے صارفین کیلئے خصوصی طور پرفورس ریمیٹنس اکاؤنٹ بنایا گیا ہے جو مالی شمولیت کو فروغ دینے کی جانب ایک اور قدم ہے۔یہ پاکستان میں وصول کنندہ کیلئے مفت ایس ایم ایس الرٹ کے ذریعے رقم وصول کرنے کا سب سے آسان اور باسہولت طریقہ ہے۔2014ء میں فورس ریمٹینس اکاؤنٹ کے آغازکے بعدبینکاری کی خدمات سے محروم آبادی کو بینکاری کی خدمات فراہم کرتے ہوئے بینک کے ڈپازٹ بیس میں مستحکم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اسٹیٹ بینک کے اے ٹی ایم میں اضافے کے عزم کے تحت نیشنل بینک کے فورس ریمیٹینس اکاؤنٹ کے حامل صارفین کیلئے پاکستان بھر میں کسی بھی لنکڈاے ٹی ایم کے ذریعے نقد رقم نکالنے کی سہولت دستیاب ہے۔نیشنل بینک آف پاکستان کا ویژن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے انضمام کے ذریعے اپنے رقم منتقل کرنے والے صارفین کو بے مثال خدمات فراہم کرنا ہے۔نیشنل بینک اپنے صارفین کیلئے جدید ٹیکنالوجی پرمشتمل پروڈکٹس متعارف کراتے ہوئے موجودہ ترسیلات زر کی مارکیٹ میں ڈیجیٹل ڈسرپشن تخلیق دینے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا یہ مختلف بینکاری کی ضروریات کیلئے ون ونڈو کاحل پیش کرتے ہوئے ترسیلات زر وصول کرنے کیلئے برانچ جانے یا ATM تک جانے کی ضرورت کو ختم کرے گا۔نیشنل بینک آف پاکستان مستقبل پر نظر رکھنے والی انتظامیہ کی قیادت میں نئی قوت اور گرمجوشی کے ساتھ اپنے تمام کسٹمرز کو بینکاری کی بلارکاوٹ خدمات فراہم کررہا ہے۔ اپنی خدمات کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اپنی خدمات کے معیار کو نئی بلندیوں تک لے جانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ہم اپنے نعرے ’’قوم کا بینک ‘ ‘ ( The Nation’s Bank ) پر پورا اترنے کیلئے پر عزم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.