شہید ضیاءالحق کی برسی کل عقیدت واحترام سے منائی گئی

جدت ویب ڈیسک : سترہ اگست 1988۔اندوہناک قومی سانحہ کے شہدا کی برسی عقیدت اور احترام سے منائی گئیشہید صدر کو ان کے لائق ترین رفقا ءکے ساتھ ایک پراسرار سازش کے ذریعے اس طرح اچانک شہید کر دیا گیا کہ دنیا پر حیرت اور عالم اسلام پر سکتہ چھا گیا، کروڑوں مسلمانوں کی دل بے چین ، زبانیں گنگ اور اعصاب منجمد ہوکر رہ گئے صدر مرحوم 17 اگست 1988 ،3 محرم 1409 بروز بدھ کی صبح کو پاک فضائیہ کے طیارے “سی ۔ “130 میں بہاولپور گئے تھے۔ جہاں انہوں نے فوجی یونٹوں کا معائنہ اور نئے امریکی ٹینک کے تجربات کا مشاہدہ کیا، نماز ظہر باجماعت اداکی اور سہ پہر کو 3بج کر 46منت پر، جب وہی طیارہ انہیں اور ان کے رفقا کو لے کر، بہاولپور ائیر پورٹ سے اسلام آباد واپس جانے کے لئے فضاءمیں بلند ہوا ، توصرف پانچ منٹ کے اندر ائیر پورٹ سے 8میل کے فاصلے پر ، بستی لال کمال ، ضلع لودھراں کے حدود میں گر کر پاش پاش ہوگیا ، طیارے میں سوار کل تیس افراد میں سے کوئی زندہ نہ بچ سکا۔ اس اندوہناک قومی سانحہ کا ذکر میڈیا اس طرح چھپاتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا نہیں تھا ۔ میں انکی یادداشت بحال کرواتا ہوں ، یہ منافق لوگ شہید ضیاءکی نفرت میں بھول جاتے ہیں کہ اس سانحے میں شہید ضیاءکے ساتھ جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف کمیٹی کے چیرمین جنرل اختر عبدالرحمٰن، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹینیٹ جنرل محمد افضال بھی شہید ہوئے تھے۔ نیز طیارے کے عملے کے تمام ارکان سمیت، پاکستانی فوج کے ۳ میجر جنرل، ۵ بریگیڈیئر ، ایک کرنل، ایک اسکواڈرن لیڈر اور ایک نائب صوبیدار بھی ساتھ شہید ہوئے ۔ ان میں صدر شہید کے پریس سیکرٹری بریگیڈیئر صدیق سالک ، ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر نجیب احمد اور صدر کے اے ڈی سی اسکواوڈرن لیڈر راحت مجید صدیقی بھی شامل تھے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون جہاز کی تقریباً ہر چیز جل گئی، لیکن قرآن پاک وہ نسخہ جو سفر میں صدر مرحوم کے ساتھ رہتا تھا اور دو غالباً تفسیر کی کتب جو اس سفر میں انکے ہمراہ تھیں سالم رہیں ۔ غرض! یہ قوم کا نامور سپوت اور پاکستانی بہادر افواج کے قابل فخر ارکان اپنے مدبر سپہ سالار سمیت سب کے سب وردیوں میں تھے، جہاد ہی کے سلسلہ کے اس نیک سفر میں شہادت کی دائمی زندگی سے ہمکنا ر ہوئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.