مومن آبادجرائم پیشہ عناصر کا گڑھ‘ جوا‘ سٹہ ‘منشیات عام

کراچی جدت ویب ڈیسک مومن آباد اورنگی ٹائون منشیات ، سٹہ ،جوا اور جرائم پیشہ افراد کا مرکز بن گیا ، جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی جبکہ پولیس اور دیگر ادارے خاموش تماشائی کا کرادار ادا کررہی ہیں۔ان جرائم پیشہ افراد ،منشیات فروشوں ، جوا ،سٹہ اور فحاشی کے اڈوں کو مومن آباد تھانہ کے ایس ایچ او صابر خٹک کی پوری سرپرستی حاصل ہے ۔ یہی جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروش پولیس کے ساتھ بیٹھ کر کام کرتے ہیں،ایس ایچ او صابر خٹک نے غیر قانونی طور پر اسپیشل پارٹیاں بنائی ہیں ،جس میں عام جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں ۔ یہ افراد تھانہ میں اوپر بنے مخصوص کمروں میں اور تھانہ کے قریب باہر ریتی بیچنے والوں کے جھونپڑی نما بیٹھک میں بیٹھے رہتے ہیں ۔چند روز قبل بھی منشیات فروشوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں ایک منشیات فروش زخمی ہوا تھا جو بعد میں ہسپتال میں چل بسا۔یہی فائرنگ اور جھگڑے جوے اور سٹہ کے اڈوں پھر بھی ہوتے رہتے ہیں جس میں اکثر بے گناہ راہگیر اور اہل محلہ زخمی ہوجاتے ہیں ۔مومن آباد پولیس کی سرپرستی میں علاقہ میں واقع ایڈ موڑ پمپ کے پاس فحاشی کا اڈا بھی چلتا ہے ۔اسی طرح پورے علاقہ میں جگہ جگہ غیر قانونی پٹرول بھی بکتا ہے جسکا باقاعدگی سے بھتہ تھانہ میں جاتا ہے۔علاقہ میں کے ٹوکے نام سے مشہور پہاڑی بھی ہے جہاں منشیات فروش اور ڈکیٹ گروہ اب تک چار قتل کرچکے ہیں ،کے ٹو کے آس پاس رہائشی بھی ان محفلوں اور ڈکیت گروہ سے عاجز آچکے ہیں مگر رہائشی آج تک کاروائی کے منتظر ہے۔کے ٹو پہاڑی سے نیچے سائٹ میں واقع فیکٹریوں سے یہ گروپ دن اور رات کو چوری کرتے ہیں ۔تھانہ سائٹ اے کے علاقہ میں بھی یہ گروپ ڈکیتیاں کرتے ہیں اور مزاحمت پر لوگوں کو قتل کرتے ہیں کل بھی سائٹ اے کی حدود میں دوران ڈکیتی ایک فرد کو قتل کیا گیا تھا ، اس گروپ کا دوسرا بڑا مرکز مومن آباد کے علاقہ میں واقع ضیائ کالونی کاقبرستان ہے جہاں عصر کے بعد لوٹ مار کی کاروائیاں شروع ہوتی ہیں ۔ اس قبرستان میں ڈکیت گروہ پولیس اہلکاروں کو شہید کرچکے ہیں۔ قبرستان کے پاس بنی چوکی اب ویران ہے اور لوگ اس کو کچرا دان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔پورے علاقہ میں پولیس کی چشم پوشی اور کئی سالوں سے تعینات تھانیدار کی وجہ سے جرائم کا بازار گرم رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.