جی ڈی پی کے مقابلے ٹیکس کا تناسب بہت کم ہے‘میاں زاہد حسین

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک کے روشن مستقبل کیلئے ٹیکس نیٹ پھیلانا ضروری ہے۔ اس وقت جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے جسکی وجہ سے ملک کو قرضے لے کر چلایا جا رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ عوام کو ہر حکومت سے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر ، سماجی تحفظ اور غربت میں کمی لانے سمیت متعدد توقعات ہوتی ہیں مگر ٹیکس ادا نہ کرنے کے کلچر کی وجہ سے یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ٹیکس ادا نہ کرنے کی ایک وجہ ٹیکس دہندہ اور ٹیکس گزار کے مابین اعتماد کا فقدان ہے جسے دور کیئے بغیرمحاصل میں اضافہ نا ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تیرہ فیصد سے گر کر دس فیصد تک آ گیا ہے جو تشویشناک ہے جبکہ دوسری طرف بنگلہ دیش میں یہ تناسب چودہ فیصد ہے جسے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کیا جا رہا ہے اور کئی افریقی ممالک میں یہ اٹھارہ فیصد سے زیادہ ہے۔ ملکی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو حکومت کے بس کی بات نہیں اسکے لئے موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ بڑھائے بغیر ٹیکس نیٹ کو پھیلانا ضروری ہے تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ بینک ٹرانزیکشن پرودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس بڑھانے جیسے اقدامات کے بجائے ٹیکس نیٹ کو ہر ممکن طریقے سے پھیلایا جائے تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو ۔ سیاسی عدم استحکام اور جے آئی ٹی کے معاملات کے باوجود نئے مالی سال کے پہلے پندرہ دن میں ایف بی آر نے ایک سو ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکس جمع کیئے ہیں جو گزشتہ کئی سال کے مقابلے میں ایک ریکارڈ ہے ۔ اگر ایسی کارکردگی سارا سال دکھائی جائے تو ملک قرضوں سے بے نیاز ہو سکتا ہے مگر ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کاروباری برادری ہراساں نہ ہو، تاکہ کاروباری سرگرمیاں جو پہلے ہی ماند ہیں انکو مزیدنقصان نہ پہنچے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.