خودکار کشتی ’’ مے فلاور 400 ‘‘سفر کیلئے تیار

نیویارک (ویب ڈیسک) خودکار طریقے سے چلنے والی کشتی ’مے فلاور 400‘ جلد سمندر میں اپنا سفر شروع کرے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کشتی پر سولر پینلز لگے ہوں گے، اس کا وزن  50 فٹ اور نو ٹن ہے  اور یہ اپنے سفر کے دوران سمندر میں آلودگی، پانی میں پلاسٹک اور سمندری جانوروں کا جائزہ لے گی۔

امریکی کمپنی آئی بی ایم میں کام کرنے والی ایک ماہر روزی لیکرش نے بتایا کہ ’لوگوں کے بغیر چلنے والی کشتی کی مدد سے سائنسدانوں کو جائزہ لینے کے لیے مزید جگہوں کا پتہ چل سکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انساںوں سے خالی کشتی کسی بھی ماحول میں داخل ہو سکتی ہے۔مے فلاور پراجیکٹ کے ماسٹر مائنڈ بریٹ فانوف نے کہا کہ، اس کشتی کے پراجیکٹ میں کئی افراد شامل ہیں جن کا تعلق بھارت، سوئٹزرلینڈ اور امریکا سمیت دیگر ممالک سے ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ عالمی کوششوں کے بغیر اس پراجیکٹ کی لاگت پرو میئر کے لگائے 10 لاکھ ڈالر سے 10 گنا زیادہ ہوتی۔

AI, captain! First autonomous ship prepares for maiden voyage

خودکار کشتی ’’ مے فلاور 400 ‘‘سفر کیلئے تیار

Leave a Reply

Your email address will not be published.