وزیراعظم نے لوار ی ٹنل منصوبے کا افتتاح کردیا

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریفنے لواری ٹنل کے عظیم اورتاریخی منصوبے کا افتتاح کردیا ،لواری ٹنل نوشہرہ،مردان،ملاکنڈ،چکدرہ،چترال شاہراہ پر تعمیر کی گئی ہے، منصوبے کے پی سی ون کی لاگت تقریبا 27 ،ارب روپے ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا لواری ٹنل پہنچنے پر مسلم لیگ ن کے رہنمائوں اورکارکنوں نے شاندار استقبال کیا گیا اور ان کے ہمراہ مسلم لیگ ن کے رہنما پیرصابر اور امیر مقام بھی تھے ۔بڑی ٹنل کی لمبائی 8.5 کلومیٹر ہے۔اس کے ساتھ 1.9 کلومیٹر دوسری ٹنل بھی تعمیر کی گئی ہے جبکہ ٹنل کے دونوں اطراف35 کلومیٹر رسائی سڑکوں کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔اس منصوبے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ٹنل چترال اور ملک کے تمام حصوں کے درمیان پورا سال مسلسل رابطہ مہیا کرنے کے علاوہ بالخصوص دیر اور چترال کے درمیان معاشی سرگرمیاں سہل اور مسافروں کی آمدورفت میں روانی پیدا کرے گی ۔ اس منصوبے کے پی سی ون کی لاگت تقریبا 27 ،ارب روپے ہے۔لواری ٹنل کی تعمیر یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے اور اس پر2005 میں کام شروع کیا گیا تھا،لیکن گزشتہ کئی سالوں میں اس منصوبے پر کام جاری نہ رہ سکا۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چار سال قبل اقتدار سنبھالنے پر اس منصوبے کی طرف خصوصی توجہ دی اور اس مشکل منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا گیا اس ٹنل کا باقاعدہ افتتاح وزیراعظم نوازشریف نے جمعرات کے روز کردیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ٹنل یہاں کے لوگوں کیلئے جمہوری حکومت کا اہم تحفہ ہے۔یہ منصوبہ بلا شبہ یہاں اقتصادی اور معاشرتی سرگرمیوں کا ذریعہ ثابت ہوگا۔لوگوں کا آپس میں میل جول بڑھے گا ،زندگی کے کاروبار میں ترقی کی نئی راہیںکھلیں گی اورمقامی آبادی کو اپنے روز گار کے ذرائع وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔حکومت کے مطابق یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹنل کی تعمیر سے قبل سال میں سے تقریبا 5،مہینے اور خاص طور پر شدید سردی کے موسم میں چترال کا علاقہ پورے ملک سے کٹ جاتا تھااور مقامی لوگوں کو گوناں گوں مسائل کا سامنا رہتا تھا۔بلاشبہ یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ اور فوری توجہ طلب تھی۔ اس بات کا کریڈٹ بھی موجودہ حکومت کو جاتا ہے کہ لواری ٹنل جیسے عظیم اور مشکل منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا گیا۔لواری ٹنل کی تکمیل پر ملک کا یہ دور دراز کا علاقہ بھی قومی ترقی کے دھارے میں شامل ہو گیا ہے ،اب اس علاقے میں چھوٹی صنعتوں اور گھریلو دستکاریوں کو غیر معمولی فروغ ہوگا اور لوگوں کے زرائع آمدن بڑھیں گے۔اس علاقے میں معدنیات کی بہتات ہے اور ان کی دریافت معاشی نقطہ نظر سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔منصوبے کی تکمیل سے گاڑیوں کو موجودہ خطرناک موڑوں اور دشوار گزار راستوں سے نجات مل جائے گی اور یہ علاقہ پورا سال آمدورفت کیلئے کھلا رہے گا۔علاوہ ازیں اس علاقے میں سیاحت کے فروغ کے وسیع ترامکانات ہیں اور سارا سال رسائی کے باعث یہاں سیاحت کی صنعت ترقی کرے گی۔یہاں کے دلفریب قدرتی نظارے یقینی طور پر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے بھی دلچسپی کا باعث ہونگے۔سیاحت کا فروغ مقامی آبادی کی معاشیات پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔وزیر اعظم پاکستان کی رہنمائی میں ملک بھرمیں موٹرویز اور ہائی ویز کی تعمیر و توسیع اور اپ گریڈیشن کا جوسلسلہ 2013 میں شروع کیا گیا وہ انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ اس وقت تقریبا 1200،ارب روپے سے زائد کے شاہراتی منصوبے زیر تکمیل ہیں جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خِطہ کا معاشی مستقبل وابستہ ہے۔سی پیک منصوبے کے تحت خنجراب سے گوادر تک موٹرویز او رہائی ویز کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کیا جار ہا ہے۔جس کی بدولت پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ، وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ علاقائی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.