معروف دانشور ادیب اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 13 برس بیت گئے

جدت ویب ڈیسک :پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب اوردانشور اشفاق احمد تیرہ برس قبل اپنے مداحوں کو داغ مفارقت دے گئے تھے ان کی 13ویں برسی آ ج منائی جارہی ہے ۔اس سلسلے میں ملک بھر کے ادبی حلقوں میں تعزیتی ریفرنسز ،سیمینار اور تقریبات کا اہتمام کیاگیا ہے،جہاں ان کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ،ان کا انتقال 7ستمبر 2004ءکو ہوا تھا۔ افسانہ ونثر نگار ،مصنف، ریڈیو پاکستان کے مشہور کردارکو ” تلقین شاہ “ سے شہرت حاصل کرنے والے اشفاق احمد 22اگست1925ءکو لاہور میں پیدا ہوئے انہوں نے لاہور کے علاوہ اٹلی،فرانس اور نیویارک کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اشفاق احمد کا شمار سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر کے بعد ادبی اُفق پر نمایاں رہنے والے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے ایک مشہور افسانے ” گڈریا “ سے غیر معمولی شہرت حاصل کی اس کے علاوہ ایک محبت سو افسانے،من چلے کا سودا،سفر در سفر ،کھیل کہانی،توتا کہانی اور دیگر ان کی معروف تصانیف ہیں۔ عوام کو تلقین شاہ کا مخصوص لہجہ اور دھیما پن آج بھی یاد کیا جاتا ہے ۔قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی کے ادبی قبیلے سے تعلق رکھنے والے اشفاق احمد کو پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سمیت کئی ایوارڈزاور اعزازات سے نوازا گیا۔یہاں اس قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کی اہلیہمحترمہ بانو قدسیہ بھی ملک کی ایک نامورادیبہ ہیں جنہوں نے ادو ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں ہیں اور وہ بھی اشفاق احمد کی رفاقت سے مستفید ہونے کا اعتراف برملا کرتی ہیں۔اردو ادب کا یہ عظیم ستارہ 7ستمبر 2004ءکو 79برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو ا

Leave a Reply

Your email address will not be published.