روایت شکن شاہدہ عباسی کی پےدرپے کامیابیاں،اورگولڈمیڈل جیتنے کا عزم

جدت ویب ڈیسک :کوئٹہ کےپُرآشوب حالات میں اپنی کمیونیٹی کے لیے بالخصوص اور اپنے شہر کی بالعموم بگڑتی صورت حال اور آئے دن ہونے والے دھماکوں سے خوف زدہ شاہدہ عباسی نے کراٹے کو اپنے اعتماد، بہادری اور طاقت کا ذریعہ بنایا اور جلد مقامی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں گولڈ میڈل سمیت درجنوں میڈلزاپنے نام کیئے۔پے در پے کامیابیوں نے نہ صرف شاہدہ کو اعتماد بخشا بلکہ ملکی سطح پر بھی اسے سراہا جانے لگا اور یوں وہ گزشتہ برس بھارت میں ہونے ساؤتھ ایشیئن گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہوئی جہاں اس نے سلور اور براؤنز میڈلز جیت کر اپنے ملک، شہر اور کمیونیٹی کا نام روشن کیا اوراسی سال دبئی میں بھی براؤنز میڈل جیتے جس کے بعد اب قوم کی یہ باہمت بیٹی اگست 2017 میں ہونے والے چوتھے ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتنے کیلئے بھر پور ٹریننگ میں مصروف ہیںساؤتھ ایشیئن گمیز میں سلور میڈل جیتنے والی شاہدہ عباسی آئندہ ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے کے لیے پُرعزم ہیں ساتھ ہی لڑکیوں کو کراٹے سکھانے کے لیے پسماندہ علاقے میں سینٹر بھی قائم کردیا ہے۔وہ کراٹے کھیلتی ہے! یہ ایک ایسا جملہ جسے ہمارے معاشرے میں سن کر بیشتر لوگ چونک جاتے ہیں اور کوئٹہ کی رہائشی شاہدہ عباسی کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔روایت شکن شاہدہ عباسی نے نا مصائب حالات میں جس بہادری عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ قابل رشک ہی نہیں بلکہ قابل ستائش بھی ہے اور آج کراٹے کے بین الااقوامی مقابلوں میں پاکستان کی جانب سے حصہ لینے والی وہ واحد خاتون کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے بھارت میں ہونے والے ایشیئن گمیز میں مختلف کیٹیگری میں سلور اور براؤنز میڈل جیت کر دشمن کی سرزمین پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی شاہدہ عباسی کو ایشیئن گیمز میں شرکت کے دوران شدت سے پاکستانی لڑکیوں کے لیے کراٹے سیکھنے کے مراکز کی کم یابی کا احساس ہوا اور تب ہی اس بہادر لڑکی نے لڑکیوں کو کراٹے سکھانے کا بیڑہ اُٹھانے کی ٹھانی تاکہ یہ لڑکیاں نہ صرف ملک کا نام روشن کر سکیں بلکہ سیلف ڈیفنس کرنا بھی جان سکیں۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.