Karachi Water & Sewerage Board

واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران کروڑوں کا پانی ’’پی‘‘ گئے

کراچی سے سید زیدکی رپورٹ٭انچارج ہائیڈرنٹس کراچی واٹر بورڈ شکیل قریشی بیک وقت چار عہدوں کو انجوائے کررہا ہے‘ ہائیڈرنٹس سے ہونے والی آمدنی میں کروڑوں روپے کا ہیرپھیر۔ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی باخبر‘ریونیو آفیسر نثار مگسی اور کلرک شہباز بھی بہتی کنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف‘ہائیڈرنٹس سے ہونے والی آمدنی نہ ہونے کے برابر۔ ایم ڈی تک حصہ پہنچایا جارہا ہے۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق انچارج ہائیڈرنٹس کراچی واٹر بورڈ شکیل قریشی جو شعبہ مکینیکل کا افسر ہے تاہم اس وقت وہ کئی عہدوں پر کام کررہا ہے‘ شکیل قریشی ایکسیشن انچارج ہائیڈرنٹس‘ انچارج ہائیڈرنٹس‘ انچارج میئر ڈویژن کی’’بھاری ذمہ داریاں‘‘ بھی اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہے۔ کراچی کے مختلف ہائیڈرنٹس سے ہونے والی آمدنی میں کروڑوں کا ہیرپھیر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کے مختلف ہائیڈرنٹس پر 7کروڑ50لاکھ کا مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔شکیل قریشی نے ہائیڈرنٹس پر موجود میٹر ریڈنگ کے لئے سب انسپکٹر منصور کیانی کو غیرقانونی طور پر اسسٹنٹ ریونیوافسر کی سیٹ دی گئی ہے جبکہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس قسم کی کسی پوسٹ کا وجود واٹربورڈ میں ہے ہی نہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ نیپاہائیڈرنٹ کا میٹرریڈنگ کا بل2کروڑ روپے سے کم کرکے 60لاکھ روپے کردیا گیا جبکہ صفورا ہائیڈرنٹ کا میٹر ریڈنگ کا بل 3کروڑ 60لاکھ روپے بنتا تھا اسے کم کرکے ڈیڑھ کروڑ کردیا گیا۔ اسی طرح سخی حسن ہائیڈرنٹ جس کا بل 3کروڑ42لاکھ 84ہزار روپے بنتا تھا اسے کم کرکے ایک کروڑ50لاکھ روپے کردیا گیا‘ ریونیو افسر نثار مگسی جو کہ تمام معاملات کی لین دین میں ملوث ہے اور ایم ڈی ہاشم رضا زیدی کا فرسٹ مین کا کردار ادا کررہا ہے اور ذرائع بتاتے ہیں کہ ایم ڈے کا منظورنظر ہونے پر اس پر نوازشات کی بارش کی جاتی ہے۔ ایم ڈی ہاشم رضا زیدی کی سرپرستی میں کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں کرپشن کا بازار گرم اورٹھیکیداروں سے آنے والی رقوم میں خرد برد معمول بنا دیا ہے۔ٹھیکیداروں سے چیکس کی وصولی کے وقت 20سے30فیصد کمیشن وصول کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں کی فائلوں کی منظوری کی مد میں ریٹ 5فیصد سے کم کرکے 2فیصد کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لین دین کے یہ سارے کالے کرتوت نثار مگسی اور لعل بخش نامی شخص کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کو ہائیڈرنٹس سے ریکوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ تمام ہائیڈرنٹس کے ٹھیکیدار حضرات شکیل قریشی سے براہ راست لین دین کرتے ہیں اور ادارے کے سینئر افسر ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر میکنیکل سروسز اسد اللہ خان کا کہنا نہیں مانتے۔مختلف ہائیڈرنٹس پر بعض میٹر میں خرد برد شکیل قریشی کی ایمائ پر منصور کیانی اور فوکل پرسن واٹر ہائیڈرنٹ شہباز کے ذریعے کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق شہباز جو کہ واٹر بورڈ میں کلرک ہے انکو فوکل پرسن ہائیڈرنٹ کا عہدہ دے دیا گیا ہے۔باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ میں کچھ روز قبل گلشن معمار ہائیڈرنٹ جو کہ عارضی طور پر مویشی منڈی کے لئے ایک ماہ کے لئے کھولا گیا تھا جس کی ریکوری کروڑوں روپے میں ہوئی‘ پیسوں کے لین دین کے معاملات کے باعث انچارج واٹر ہائیڈرنٹس شکیل قریشی‘ ریونیو افسر نثار مگسی اور فوکل پرسن شہباز کے درمیان رقم کے معاملے پر تنازع پیدا ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق کچھ روز قبل فوکل پرسن واٹر ہائیڈرنٹ شہباز نے ایک ہائیڈرنٹ کے ٹھیکیدار سے شکیل قریشی سے براہ راست میٹنگ کروانے کے بعد مذکورہ ٹھیکیدار نے شہباز پر نوازشات کی بارش کردی اورشہباز کو صرف’’ایک میٹنگ‘‘ کے عوض نئی ٹیوٹا کرولا بی ایس گاڑی’’تحفے‘‘ میں دے دی جس کی مالیت 20لاکھ روپے ہے۔ یہ نئی گاڑی فوکل پرسن شہباز کے گھر پر موجود ہے۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریونیو افسر نثار مگسی ناجائز طورپر ریونیو افسر کی پوسٹ پر براجمان ہے اور ایم ڈی واٹر بورڈ کے فرنٹ مین کا کردار ’’خوش اسلوبی‘‘ کے ساتھ انجام دے رہا ہے اور ہائیڈرنٹس سے آنے والی تمام غیر قانونی آمدنی ایم ڈی کے گھر تک فرنٹ مین نثار مگسی پہنچاتا ہے۔یاد رہے کہ موجودہ ایم ڈی واٹراینڈ سیوریج بورڈ ہاشم رضا زیدی کے خلاف نیب اورتحقیقاتی اداروں میں کروڑوں روپوں کی خرد برد کے حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.