Terrorist Arrested

کالعدم انصار الشریعہ کاسربراہ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کراچی سے گرفتار

کراچی جدت ویب ڈیسک حساس اداروں کی کنیزفاطمہ سوسائٹی میں کارروائی ‘انصار الشریعہ کا سربراہ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی گرفتار،خواجہ اظہار پر حملے کا ملزم سروش کا ساتھی ڈیفنس کراچی سے پکڑاگیا، تعلق کالعدم جیش محمد سے تھا۔ پولیس نے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار پر حملے کے ملزم عبدالکریم سروش صدیقی کے 3 دوستوں کو گرفتار کرلیا۔ذرائع کے مطابق خواجہ اظہار حملے کے مفرور ملزم عبدالکریم کا جامعہ کراچی کا نیٹ ورک پکڑا گیا، ملزم کے تین دوستوں کو پولیس نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، تینوں نوجوان جامعہ کراچی کے طالب علم ہیں۔ذرائع کے مطابق فرار ملزم اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے حساس اداروں اور پولیس کی مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں اور چھاپے مارے جارہے ہیں، پولیس نے ملزم عبدالکریم کا لیپ ٹاپ بھی برآمد کرلیا ہے جسے آن کرنے کے لیے آئی ٹی ماہرین سے مدد لے لی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالکریم سروش صدیقی کے پیچھے کوئی بڑا ماسٹر مائنڈ ہے، ملزم کا گروپ نو لڑکوں پر مشتمل تھا، ملزم کے دیگر دوستوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بڑھتی انتہا پسندی سے نمٹنے کےلئے جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے ہزاروں طلبہ کا ریکارڈ ایجنسیوں کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی نے طلبا کا ریکارڈ ایجنسیز کو دینے کا فیصلہ کرلیا ¾ جامعہ کی انتظامیہ داخلے کے خواہشمند طلبہ کےلئے مقامی تھانے کا کریکٹر سرٹیفکیٹ جمع کرانے کو بھی ضروری قرار دینے پر غور کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق دہشت گردی میں جامعات کے طلبا کے ملوث ہونے پر یہ اقدام کیا جائے گا۔ ذرائع جامعہ کراچی نے بتایا کہ اکیڈمک کونسل کے آئندہ اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری لی جائےگی۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے مرکزی ملزم عبدالکریم سروش صدیقی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ جامعہ کراچی کا طالب علم ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ کیا جامعات دہشت گردوں کی افزائش گاہ بن گئیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.